برڈ فلو کی تصدیق، کروڑوں کا نقصان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی لیبارٹری نے پاکستان میں ایبٹ آباد اور چارسدہ کے دو مرغی فارموں میں برڈ فلو وائرس کی تصدیق کردی ہے جبکہ پولٹری انڈسٹری کے نمائندوں کا کہنا ہے برڈ فلو کے خدشے سے اس صنعت کو سات سے دس کروڑ روپے روزانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ وزارت خوراک و زراعت کے ’اینیمل ہسبنڈری کمشنر‘ محمد افضل نے بتایا ہے کہ انہوں نے ایبٹ آباد اور چارسدہ سے جو نمونے تصدیق کے لیے برطانیہ بھیجے تھے ان کی رپورٹ آگئی ہے اور اس میں H5N1 وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں مرغی فارمز میں تمام مرغیاں تلف کردی گئی تھیں لہٰذا اب خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔ ان کے مطابق ملک کے دیگر حصوں سے بھی کچھ نمونے بھیجے گئے تھے لیکن اور کسی جگہ بھی اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی۔ پاکستان میں فروری کے آخر میں جب اس موتمار وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا تو اس وقت حکومت نے کہا تھا کہ یہ ’ کم درجے‘ کا وائرس ہے۔ لیکن اب انگلینڈ کی لیبارٹری سے تصدیق کے بعد اس نے تسلیم کیا ہے کہ یہ خطرناک حد والا وائرس ہے۔ تاہم حکام کہتے ہیں کہ تاحال اس وائرس سے کوئی ہلاکت واقع نہیں ہوئی اور حکومت نے بروقت احتیاطی تدابیر کے طور پر دونوں متعلقہ فارموں سے پچیس ہزار کے قریب مرغیاں تلف کردی تھیں۔ پاکستان میں پولٹری ایسوسی ایشن نے اس وائرس کی موجودگی کے بعد اخبارات میں اشتہار شائع کرائے تھے کہ مرغیاں کھانے سے کوئی خطرہ نہیں۔ اس بارے میں حکومت کے متعلقہ اداروں سے بھی انہوں نے بیانات دلوائے تھے۔ آل پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ برڈ فلو کے خدشہ کی وجہ سے ملک میں مرغی کی صنعت کو سات سے دس کروڑ روپے روزانہ کا نقصان ہورہا ہے۔ صوبہ سرحد میں برڈ فلو پائے جانے کی برطانیہ سے تصدیق ہوجانے کے بعد پنجاب میں زندہ مرغی کی قیمتیں منگل کے روز پرچون میں چالیس روپے فی کلو گرام تک گرگئی ہیں جو چند ہفتے پہلے تک ساٹھ روپے تک تھیں۔
پولٹری ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ برڈ فلو کے خطرہ کے پیش نظر مرغی کے استعمال میں کمی ہوگئی ہے اور یہ کاروبار خطرہ میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں پچیس ہزار مرغی خانے ہیں جن میں سے ستر فیصد پنجاب میں ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ برڈ فلو کے ڈر سے پہلے عام دنوں میں ملک میں ہر روز تقریبا بیس لاکھ اور ایک سال میں تقریبا ستر کروڑ مرغیاں پیدا ہوتی تھیں۔ ایسوسی ایشن کے سابق چئرمین ڈاکٹر حسن سروش کے مطابق ملک میں سالانہ فی آدمی چار کلوگرام مرغی اور تقریبا پچاس انڈے کھائے جاتے ہیں۔ پولٹری ایسوسی ایشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان دنوں کسان برائلر مرغی کا ایک دن کا چوزہ سولہ روپے کی بجائے پانچ روپے کا بیچنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق اوسطاً ایک مرغی ڈیڑھ کلوگرام وزن کی ہوتی ہے۔ عام دنوں میں کسان یہ مرغی تھوک میں پچاس روپے کی فروخت کرتا ہے لیکن اب یہی مرغی تیس روپے فی کلوگرام میں فروخت ہورہی ہے۔ یوں پولٹری والوں کے مطابق ہر ایک مرغی پر پالنے والوں کو بیس روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ برڈ فلو کے ڈر کی وجہ سے کسانوں نے مرغی کی پیداوار کم کردی ہے جس سے مرغیوں کے کھانے کے اناج جیسے مکئی اور ٹوٹے ہوئے چاولوں کی کھپت کم ہوگئی ہے اور ان کی قیمتیں بھی گر گئی ہیں۔ آج پولٹری ایسوسی ایشن نے پنجاب حکومت کے جانب سے شادی کے موقع پر ون ڈش کھانوں پر پابندی لگانے کے قانون پر تنقید کی اور کہا کہ اس سے پولٹری کی صنعت پر بُرا اثر پڑ رہا ہے۔ پولٹری ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ اچھی طرح پکی ہوئی مرغی اور انڈا کھانے سے برڈ فلو کاکوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر حسن سروش کا کہنا ہے کہ پولٹری ایسوسی ایشن اٹھائیس مارچ کو راولپنڈی کے نواز شریف پارک میں ڈھائی ہزار لوگوں کو مرغی کھلانے کی دعوت کررہی ہے تاکہ لوگوں میں سے برڈ فلو کا ڈر ختم کیاجائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد میں جہاں مرغیوں کو برڈ فلو ہوا تھا وہ تمام تلف کردی گئی تھیں اور ملک کے کسی دوسرے حصہ سے برڈ فلو کی کوئی خبر نہیں آئی۔ ڈاکٹر سروش کا کہنا ہے کہ ان شہروں میں ہرمرغی خانہ کا معائنہ کیا گیا اور وہاں اور کسی جگہ برڈ فلو نہیں پایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد اور چارسدہ میں برڈ فلو کے واقعے کے بعد سے اب تک سرکاری ادرے ملک بھر سے چونتیس ہزار مرغیوں کے نمونوں کا معائنہ کر چکے ہیں اور کہیں بھی برڈ فلو نہیں پایا گیا۔ ڈاکٹر عبدالباسط کے مطابق ایبٹ آباد اور چارسدہ کے متاثرہ مرغی خانوں میں کام کرنے والے عملہ کو زیر نگرانی رکھا گیا تھا لیکن انہیں کسی قسم کا فلو نہیں ہوا اس لیئے ملک میں برڈ فلو پھیلنے کا کوئی خطرہ نہیں۔ پولٹری ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کاروبار کو بچانے کے لیے شادی کے موقع پر مہمانوں کو ایک کھانا کھلانے کی اجازت دے۔ ایسوسی ایشن نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پولٹری کے کاروبار پر سے انکم ٹیکس معاف کردے کیونکہ اگر پولٹری کی پیداوار ختم ہوگئی تو حکومت کو ویسے بھی کوئی ٹیکس نہیں ملے گا۔ |
اسی بارے میں سرحد میں 25000 مرغیاں تلف28 February, 2006 | پاکستان پاکستان: دو پولٹری فارمز میں وائرس 27 February, 2006 | پاکستان پاکستان میں پولٹری صنعت والے پریشان23 February, 2006 | پاکستان پولٹری صنعت کو شدید نقصان21 February, 2006 | انڈیا پاکستان: مرغیاں لانے پر پابندی20 February, 2006 | پاکستان ترکی برڈ فلو، اقوام متحدہ کا انتباہ11 January, 2006 | آس پاس بھارت: برڈ فلو گجرات پہنچ گیا 25 February, 2006 | انڈیا ’پولٹری صنعت کو بچائیں‘26 February, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||