پاکستان: دو پولٹری فارمز میں وائرس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام نےابتدائی ٹیسٹوں کے بعد صوبہ سرحد کے دو پولٹری فارمز میں موجود مرغیوں میں فلو کے وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے البتہ ان کا کہنا ہے کہ یہ وہ مہلک برڈ فلو نہیں ہے جو حالیہ مہینوں میں کئی ممالک میں پایا گیا ہے۔ مرغیوں میں کئی قسم کے فلو پائے جاتے ہیں لیکن حالیہ مہینوں میں کئی ممالک میں جو مہلک قسم کا وائرس مرغیوں میں پایا گیا ہے اسے ایچ فائیو این ون (H5N1) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس مہلک وائرس کو عرف عام میں برڈ فلو کہا جارہا ہے۔ پاکستانی حکام نے بتایا کہ صوبہ سرحد میں جس وائرس کی تصدیق کی جارہی ہے یہ برڈ فلو نہیں تاہم برڈ فلو کی تصدیق کے لیےمزید ٹسٹ کیےجا رہے ہیں۔ حکومت نے صوبہ سرحد کے ضلع چارسدہ اور ایبٹ آباد میں ان دو فارمز کو سیل کر دیا ہے۔ وزارت خوراک کے ڈاکٹر محمد افضل کے مطابق ان دو فارمز میں لو پیتھجینک ایویان انفلوئنزا وائرس یعنی ایچ فائیو (H5) کے شواہد ملے ہیں جوکہ برڈ فلو یعنی ایچ فائیو این ون نہیں ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے تعین کے لیے کہ آیا یہ ایچ فائیو این ون وائرس ہے یا نہیں حاصل کیے گئے نمونے لندن بھیجے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ برڈ فلو کی مکمل اور یقینی تشخیص کے لیےپاکستان میں سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دو فارم کے مالکان کی رضامندی سے وہاں موجود مرغیوں کو تلف کیا جائے گا۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے آج ضلع چارسدہ میں اس ایک پولٹری فارم کا دورہ کیا جسے سیل کر دیا گیا ہے۔ فارم کے باہر اور اندر بھی پولیس نفری تعینات ہے تاہم لوگوں کی آمدورفت بھی جاری ہے۔ فارم کے ملازمین نے بتایا کہ اس فارم میں اس وقت بھی دس ہزار انڈے دینے والی مرغیاں پالی جا رہی ہیں۔ اس فارم میں آٹھ ملازموں میں سے ایک آدھ نے منہ پر ماسک پہنا تھا جبکہ باقی معمول کے مطابق مرغیوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھے۔ فارم کے انچارج عالمگیر خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حفاظتی اقدامات اٹھائے ہیں اور کل سے تین مرتبہ مرغیوں کی ویکسنیشن کے علاوہ ماسک لے لیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کے فارم کا تمام عملہ تندرست ہے اور ویکسنیشن کے بعد مرغیوں کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ گل پولٹری فارم ضلع چارسدہ کے ترلاندی علاقے میں ایک گاؤں میں واقع ہے۔ یہ فارم کافی الگ تھلگ ہے اور اس کے قریب ترین دوسرا فارم دو کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ فارم کے اردگرد ہرے بھرے کھیت ہیں۔ حکومت نے اردگرد کے دیگر فارموں سے بھی نمونے لینے شروع کیےہیں۔ جبکہ فارم مالکان کو کسی بیماری کی صورت میں فورا حکومت سے رابطے کے لیے کہا ہے۔ سرحد پولٹری فارم ایسوسی ایشن کے صدر فضل مالک فی الحال یہ ماننے کو تیار نہیں کہ یہ برڈ فلو ہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فارم میں دو ہزار مرغیاں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہلاک ہوئیں ہیں جو کہ معمول کی بات ہے۔ برڈ فلو کی افواہوں سے پولٹری کے کاروبار سے منسلک افراد میں تشویش پھیل گئی ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آل سرحد پولٹری ایسوسی ایشن کے حاجی نور ولی نے بھی برڈ فلو کی تردید کی اور حکومت پر زور دیا کہ وہ ان کے کاروبار کو متاثر ہونے سے بچائیں اور اخبارات سے پوچھیں کہ وہ کس بنیاد پر برڈ فلو کی خبریں شائع کر رہے ہیں۔ پولٹری فارم مالکان اور حکومت امید کر رہی ہے کہ تجربات سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ برڈ فلو محض ایک خدشہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ چھوٹی موٹی بیماریاں تو ان فارموں میں معمول ہیں۔ | اسی بارے میں ’وائرس سے پولٹری کا کاروبار مندا‘27 February, 2006 | پاکستان پاکستان: مرغیاں لانے پر پابندی20 February, 2006 | پاکستان لاکھوں مرغیاں ہلاک کردی گئیں19 February, 2006 | انڈیا چھ ملین مرغیاں مار دی گئیں07 November, 2005 | آس پاس ہالینڈ میں مرغیاں گھر میں رہیں گی22 August, 2005 | نیٹ سائنس کراچی کی مرغیاں بھی متاثر24 January, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||