پاکستان: مرغیاں لانے پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومت نے برڈ فلو پھیلنے کے خطرے سے بچنے کے لیے پڑوسی ممالک بھارت اور ایران سے پولٹری مصنوعات اورپرندوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ محکمہ لائیو سٹاک کے ڈپٹی کمشنر رانا اخلاق نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دو ممالک میں برڈ فلو کے کیسز سامنے آنے سے پاکستان بھر میں برڈ فلو سے بچنے کے لیے ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ادھر وفاقی وزیر صحت نصیر خان کا کہنا ہے کہ ابھی تک پاکستان میں برڈ فلو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے مگر چونکہ بھارت اور ایران میں برڈ فلو کے کیسز سامنے آئے ہیں لہذا پاکستان کی حکومت اس معاملے میں انتہائی چوکس ہے اور اس کی کوشش ہے کہ پڑوسی ممالک سے مرغیاں، پرندے اوردیگر پولٹری مصنوعات کسی صورت پاکستانی سرحد میں نہ آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کے درمیان پولٹری مصنوعات کی نقل و حرکت پر بھی پابندی لگائی جا چکی ہے۔ وزیر کے مطابق اس بیماری سے بچاؤ کے لیے ملک بھر میں چھ ٹیمیں بنائی گئی ہیں جو ملک بھر میں قائم بارہ لیبارٹریوں میں چاروں صوبوں سے پولٹری مصنوعات کا ٹیسٹ کریں گی۔ گو پاکستان اپنے پڑوسی ممالک سے پولٹری مصنوعات درآمد نہیں کر رہا تاہم حکام کو خدشہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والے مسافر اکثر بھارت اور ایران سے پرندے لاتے ہیں جو انہیں تحفے کے طور پر ملتے ہیں۔اسی لیے بھارت سے آنے والی ٹرین کے مسافروں کو وہاں سے پرندے لانے کی ممانعت |
اسی بارے میں ہندوستان میں برڈ فلو کی تصدیق18 February, 2006 | انڈیا لاکھوں مرغیاں ہلاک کردی گئیں19 February, 2006 | انڈیا ترکی میں برڈ فلو کے مزید مریض08 January, 2006 | آس پاس ترکی برڈ فلو، اقوام متحدہ کا انتباہ11 January, 2006 | آس پاس ’ایشیاء کو برڈفلو سےزیادہ خطرہ‘12 January, 2006 | آس پاس جان لیوا برڈ فلو افریقہ میں بھی08 February, 2006 | آس پاس چھ ملین مرغیاں مار دی گئیں07 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||