ہندوستان میں برڈ فلو کی تصدیق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں پہلی بار برڈ فلو وائرس پھیلنے کے واضح ثبوت ملے ہیں اور حکام اس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس خطرناک وائرس کے پھیلنے کے سبب گزشتہ چند دنوں میں مہاراشٹر کے پولٹری فارموں میں ہزاروں چکنز کی موت ہوگئی ہے۔ بھوپال میں مویشیوں کے امراض پر کام کرنے والی ’ہائی سکیورٹی لیبارٹری‘ نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ مرغیوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت برڈ فلو وائرس کے سبب ہوئی ہے۔ مہار راشٹر میں مویشی پالن کے ریاستی وزیر انیس احمد نے بتایا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹے میں تقریبا پانچ لاکھ مرغیوں کو مار دیا جائےگا تاکہ یہ وائرس انسانوں تک نہ پہنچے اسی غرض سے نندر بار میں جس علاقے میں پولٹری فارمز واقع ہیں وہاں کے تقریبا تین کلو میٹر کے علاقے کو سیل کردیا گیا ہے۔ انیس احمد کے مطابق متاثرہ علاقوں میں تقریبا پچاس ہزار چکنز کی موت ہوچکی ہے۔ ننددر بار کے علاقے میں مرغیوں کی اتنی بڑی تعداد کے مرنے کے سبب گزشتہ کئی ہفتے سے اس بات کے خدشات ظاہر کیے جارہے تھے کہ شاید اس کی وجہ برڈ فلو ہے۔ ابھی تک اس وائرس کے انسانوں تک پہنچنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے لیکن حکام کا کہنا ہے اس سے بچنے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر کے احکامات دے دیے گۓ ہیں اور تمام اسپتالوں کو اس کے متعلق آگاہ کردیا گیا ہے۔ مہاراشٹر کے ضلع نندربار میں بڑی تعداد میں پولٹری فارمز ہیں اور وہاں اس وائرس کی دریافتگی کے بعد پولٹری فارمز کے مالکان اور مویشی پالنے سے متعلقہ افسران کے درمیان اس بات پر غور فکر کیا جارہا ہے کہ اس وائرس کو مزید پھیلنے سے کیسے روکا جائے۔ پولٹری فارم کے ایک مالک کا کہنا تھا کہ اس وائرس سے تقریبا چار لاکھ مرغیاں متاثر ہو سکتی ہیں اور ان کو مارنے سے بارہ کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوسکتا ہے۔ | اسی بارے میں ترکی میں برڈ فلو وائرس سے افراتفری09 January, 2006 | آس پاس 'برڈ فلو کی دوا نہ خریدیں'17 October, 2005 | آس پاس چھ ملین مرغیاں مار دی گئیں07 November, 2005 | آس پاس برڈ فلو وائرس : ترکی میں 14 متاثر10 January, 2006 | آس پاس ترکی برڈ فلو، اقوام متحدہ کا انتباہ11 January, 2006 | آس پاس ’ایشیاء کو برڈفلو سےزیادہ خطرہ‘12 January, 2006 | آس پاس برڈ فلو: عطیات کیلیے عالمی اجلاس17 January, 2006 | نیٹ سائنس جان لیوا برڈ فلو افریقہ میں بھی08 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||