برڈ فلو: عطیات کیلیے عالمی اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں ایک بین الاقوامی اجلاس میں برڈ فلو کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک ارب ڈالر جمع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بیجنگ میں ہونے والے اس اجلاس میں دنیا کے نصف سے زیادہ ممالک اور صحت اور مالیاتی شعبوں کے عالمی ماہرین شریک ہیں۔ اس اجلاس کا افتتاح چین کے نائب وزیرِ اعظم قیاؤ زونگ ہوائی نے کیا اور اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اس بیماری کو نظرانداز کرنا ایک حقیقت پسندانہ نظریہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم ایک ہی سیارے پر رہتے ہیں اور ہماری قسمتیں ایک دوسرے سے متصل ہیں۔ ایوین وائرس کے خلاف جنگ میں کوئی ملک بھی محفوظ نہیں ہے‘۔ اس اجلاس کے منتظمین کو امید ہے کہ ایک ارب ڈالر کی یہ مجوزہ رقم جمع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اس رقم کو متاثرہ علاقوں میں اس بیماری کی نشاندہی اور صحتِ عامہ کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ اس کانفرنس میں شریک وفود سے ایک اعشاریہ دو بلین سے ایک اعشاریہ چار بلین ڈالر جمع کرنے کی درخواست کی جائے گی تاکہ اس بیماری کو پرندوں میں ہی ختم کر دیا جائے۔ یاد رہے کہ اس رقم میں انسانوں کے لیے ویکسین پر آنے والےاخراجات شامل نہیں ہیں اور اس کے لیے عالمی ادارۂ صحت الگ سے ایک اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ماہرین کو اندیشہ ہے کہ پرندوں میں پھیلنے والا یہ فلو اپنی شکل تبدیل کرنے کے بعد انسانوں کے لیے بھی ایک متعدی بیماری بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ساری دنیا میں انفلوئنزا ایک وبا کی صورت میں پھیل سکتا ہے۔ بیجنگ کانفرنس اپنی نوعیت کی دوسری کانفرنس ہے جس کے ذریعے رقم جمع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس سے قبل گزشتہ برس جنیوا میں ایک کانفرنس میں اس بیماری سے نمٹنے کے لیے ایک تین سالہ منصوبہ مرتب کیا گیا تھا۔ عالمی بنک نے پیشین گوئی کی ہے کہ دنیا بھر میں کسی بھی وباء کے پھیلنے کی صورت میں اس سے نمٹنے کے لیے موجود رقم میں آٹھ سو ارب ڈالر کم پڑ سکتے ہیں۔ بیجنگ سے بی بی سی کی نمائندہ لوئزا لم کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اسے کسانوں کو زر تلافی ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اسے پانچ سو ملین ڈالر کی امداد دی جائے۔ اس کانفرنس کا اہتمام چین، عالمی بنک اور یورپی یونین نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔ یاد رہے کہ عالمی بنک پہلے ہی اس بیماری سے نمٹنے کے لیے پانچ سو ملین ڈالر امداد دے چکا ہے۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||