برڈ فلو ہے کیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی میں دو بچوں کے برڈ فلو سے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں برڈ فلو وائرس کی موجودگی کا انکشاف دنیا بھر میں سب سے پہلے ہوا تھا تاہم جنوب مشرقی ایشیا سے باہر برڈ فلو سے انسانی ہلاکتوں کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ آج کل نقریباً سب ہی اس لفظ ’برڈ فلو’ سے واقف ہیں لیکن یہ دراصل ہے کیا؟ کیا یہ فلو کی کوئی شکل ہے یا پھر پرندوں کی کوئی بیماری، اور انسانوں کے لیے یہ کس طرح خطرے کا باعث ہے، یہ کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ ہم نے یہاں یہی سب کچھ جاننے کی کوشش کی ہے۔ برڈ فلو کیا ہے؟ انسانوں کی طرح پرندوں اور دیگر جانداروں میں بھی فلو لگنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ دنیا میں برڈ فلو کی پندرہ اقسام پائی جاتی ہیں جن میں سے ایچ فائیو اور ایچ سیون نامی اقسام جان لیوا ہو سکتی ہیں۔ سن دو ہزار تین میں برڈ فلو کی بیماری ایک درجن سے زائد ممالک میں پھیلی تھی جس کے بعد لاکھوں پرندوں کو ہلاک کردیا گیا تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔ دو ہزار پانچ کے پہلے چھ ماہ کے دوران یہ وائرس مشرقی یورپ تک جا پہنچا۔ انسانوں میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے تاہم پرندوں میں اس کے پھیلنے کی رفتار کہیں زیادہ ہے۔ آج کل برڈ فلو وائرس کی جو قسم باعث تشویش ہے وہ ہے ایچ فائیو این ون اور یہ انسانوں کے لیے بھی موت کا باعث ہو سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ وائرس بطخوں کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوسکتا ہے تاہم بطخیں بذات خود اس مرض میں مبتلا نہیں ہوتیں۔ خدشہ یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ وائرس دیگر پرندوں میں منتقل کرسکتی ہیں۔ انسانوں میں برڈ فلو وائرس سے متاثر ہونے کے سب سے پہلے واقعات 1997 میں ہانگ کانگ میں سامنے آئے تھے۔ انسانوں میں یہ بیماری متاثرہ پرندوں کے قریب رہنے سے لگ سکتی ہے۔ متاثرہ پرندوں کے فضلے میں یہ وائرس باہر آجاتا ہے اور پھرفضلا سوکھنے کے بعد یہ وائرس ہوا میں شامل ہوکر سانس کے ذریعے انسانوں میں داخل ہوسکتا ہے۔ برڈ فلو کے سمپٹمز عام فلو سے مماثلت رکھتے ہیں مثلاً بخار، گلے میں سوزش اور کھانسی وغیرہ۔ دنیا بھر میں تحقیق کار شدید تشویش کا شکار ہیں کیونکہ ویت نام میں حال ہی میں برڈ فلو کے کیس کی تحقیق کرنے والے سائنسدانوں پر انکشاف ہوا ہے کہ انسانوں میں یہ وائرس صرف پھیپھڑوں کو ہی نہیں بلکہ تمام اعضاء کو متاثر کرسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ وائرس انسانوں میں کئی طرح کی بیماریوں کی شکل میں ظاہر ہوسکتا ہے اور اس سے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس وائرس کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہونے سے روکا جاسکتا ہے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ چونکہ پرندے اس وائرس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہیں اس لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے حفاظتی انتظامات سے پولٹری پرندوں کو اس بیماری سے بچایا جاسکتا ہے مثلاً جنگلی پرندوں کو اگر پولٹری فارم سے دور رکھا جائے تو مرغیوں میں یہ مرض منتقل نہیں ہوسکتا۔
ساتھ ہی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ موسمی تغیرات کے باعث پرندوں کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے رجحان پر بھی نظر رکھی جانی چاہیے تاکہ بیماری پھیلنے کے امکانات واضح ہوسکیں۔ اس بیماری نے کتنے افراد کو متاثر کیا؟ نو جنوری 2005 کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے مختلف ممالک میں انسانوں میں برڈ فلو کے ایک سو چھیالیس کیسز کی نشاندہی کی ہے۔ ان ممالک میں انڈونیشیا، ویت نام، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، چین اور ترکی شامل ہیں۔ برڈ فلو سے اب تک 76 اموات واقع ہوچکی ہیں۔ ترکی میں اس سال کے آغاز سے اس بیماری کے کئی واقعات سامنےآئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں برڈ فلو نسبتاً تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یا پھر کہا جاسکتا ہے کہ میڈیا کی توجہ کے باعث برڈ فلو سے متاثر ہونے والے افراد کے کیس اب زیادہ تواتر سے سامنے آرہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں میں اس وبا کے بارے میں معلومات میں اضافہ ہورہا ہے اور وہ سامنےآنے اور اپنا کیس رپورٹ کرنے کے بارے میں اپنے آپ کو پر اعتماد محسوس کرتے ہیں۔ باعث تشویش امر یہ ہے کہ اس وائرس کی ترکی میں پائی جانے والی قسم وہ ہے جو با آسانی انسانوں اور مرغیوں میں پھیل سکتی ہے۔ اگر عالمی ادارہ صحت نے ترکی میں رپورٹ کیے جانے والے تمام برڈ فلو کیسوں کی تصدیق کردی تو یہ بات مزید تشویش کا باعث ہوگی کہ یہ بیماری انسانوں میں عام زکام کے وائرس سے گھل مل سکتی ہے اور یوں اس کے تیزی سے پھیلنے کے امکانات کہیں زیادہ بڑھ جائیں گے۔ اور یہی وہ خدشہ ہے جس پر دنیا بھر میں ماہرین تشویش کا شکار ہیں۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اگر کسی انسان کو زکام کے دوران برڈ فلو وائرس متاثر کرجائے تو پھر برڈ فلو کا وائرس عام فلو کی طرح ایک انسان سے دوسرے کو منتقل ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اور اگر ایسا ہوگیا تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ انیس سو اٹھارہ میں پھیلنے والی وباء، جس سے بہت سے اموات واقع ہوئی تھیں، ممکنہ طور پر برڈ فلو ہی تھا۔ تاہم اب تک اس بات کے شواہد نہیں ملے ہیں کہ یہ ایک انسان سے براہ راست دوسرے انسان کو منتقل ہوا ہو۔ دو ہزار چار میں دو بہنیں برڈ فلو سے ہلاک ہوگئی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ ممکن ہے کہ انہیں یہ بیماری اپنے بھائی سے لگی ہو جو کہ ایک نامعلوم سانس کی بیماری سے ہلاک ہوا تھا۔ اسی طرح ہانگ کانگ میں انیس سو ستانوے میں ایک ڈاکٹر ممکنہ طور پر ایک مریض سے متاثر ہوگیا تھا تاہم اب تک ان امکانات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق اگر یہ مرض انسانوں میں پھیلنے والی وبا کی شکل اختیار کرگیا تو اس سے دو ملین سے پچاس ملین افراد کی موت واقع ہونے کا خدشہ ہے۔ ابھی تک برڈ فلو کے خلاف مدافعت رکھنے والی ویکسین تیار نہیں کی جاسکی ہے تاہم تحقیق جاری ہے۔ آب آخری اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم مرغی کا گوشت کھا سکتے ہی؟ تو اس کا جواب ہے کہ ہاں اس میں کوئی حرج نہیں۔ مرغی کا گوشت کھانا ہرطرح سے محفوظ ہے۔ صرف ان افراد میں اس بیماری سے متاثر ہونےک امکان ہے جو مرغی ذبح کرتے ہیں یا اس کا گوشت کاٹنے کا کام کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر گوشت کو ستر ڈگری سینٹی گریڈ کی حرارت پر پکایا جائے تو وہ ہر طرح سے محفوظ ہوجاتاہے۔ اسی طرح انڈوں کو بھی مکمل طور پر پکا کر کھانا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق اگر گوشت سے کسی قسم کا خطرہ ہے تو وہ صرف اسی صورت میں ہے کہ گوشت کو سکھا کر سونگھا جائے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||