BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 January, 2006, 00:37 GMT 05:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برڈ فلو وائرس انقرہ تک، ترکی میں افراتفری
ترکی کے مشرق میں برڈ فلو کے خدشے سے افراتفری کا عالم ہے
برڈ فلو کے وائرس مغرب کی سمت پھیلتا ہوا ترکی کے دارالحکومت انقرہ تک پہنچ گیا ہے جس کے بعد عالمی طور پر اس مہلک وائرس کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں اور ترکی کے مشرق میں تقریباً افراتفری کا عالم ہے۔

انقرہ میں ڈاکٹروں نے ابتدائی ٹیسٹ کرنے کے بعد بتایا ہے کہ ان کے خیال میں وہاں لائے گئے تین افراد برڈ فلو کے مہلک وائرس سے متاثر ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ انسانوں تک کیسے پہنچا، یہ جاننے کے لیے عالمی ادارۂ صحت کی ایک ٹیم علاقے میں پہنچ گئی ہے۔

ترکی میں بی بی سی کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ وہ تقریباً افراتفری کا عالم ہے اور ہسپتالوں میں لوگوں کا ہجوم ہے جو یہ شکایت کر رہے ہیں کہ انہیں صحیح معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

مختلف ٹیسٹوں کے بعد پتہ چلا ہے کہ ترکی کے مشرق میں بھی دو افراد میں یہ وائرس موجود ہے۔ یہاں گزشتہ ہفتے دو بچے برڈ فلو سے ہلاک ہو گئے تھے۔

نامہ نگار کے مطابق مقامی حکام برڈ وائرس کو بڑھنے سے روکنے کے لیے مرغیوں کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی مرغیاں خود ہلاک کر دیں اور انہیں زمین میں دبا دیں۔

انقرہ میں جو لوگ برڈ فلو کے وائرس سے متاثر ہوئے ہیں ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شہر سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ایک قصبے کے رہائشی ہیں۔

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان افراد کو وائرس کیسے لگ گیا البتہ یہ اطلاعات ہیں کہ جہاں سے ان لوگوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے وہاں بطخوں کو برڈ فلو تھا۔

برڈ فلو عرف عام میں پرندوں یا مرغیوں سے انسانوں میں پھیلنے والی مہلک بیماری کو کہا جاتا ہے۔

ترک اہلکاروں نے احتیاط کے طور پر بارہ ہزار پرندوں کو ہلاک کر دیا ہے جن میں مرغیاں، ٹرکیز اور دوسرے پرندے شامل ہیں۔

ڈوگوبیازت میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق علاقے کے لوگوں میں اتنا خوف اور غصہ ہے کہ انہوں نے خود ہی بیماری سے بچاؤ کے کسی قسم کے کپڑوں کے بغیر پولٹری کے جانوروں کو مارنا شروع کر دیا ہے۔

ان کیسوں کے منظرعام پر آنے کے بعد پہلی مرتبہ براعظم ایشیا سے باہر اس مرض یعنی ایچ 5 این 1 کے وائرس انسانی جسم میں پائے جائے گئے ہیں۔

انقرہ کی حیسٹیپی یونی ورسٹی کے مورت اکووا کا کہنا ہے کہ جانوروں سے تعلق رکھنے والے انسانوں کو خصوصی طبی امداد کی ضرورت ہے لیکن آبادی کی سطح پر ابھی اس بیماری کے خلاف ٹیکے لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔

برڈ فلو یا ایچ 5 این 1 کے نام سے یہ وائرس ترکی کے ساتھ روس، رومانیہ اور کروشیا میں بھی سامنے آیا ہے۔

ایشیا سے آنے والے پرندے براستہ ترکی مغرب کی طرف جاتے ہیں۔ ان پرندوں کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ اپنے ساتھ اس مرض کا وائرس بھی یہاں پھیلا رہے ہیں۔

تاہم ابھی تک اس مرض کا وائرس انہی لوگوں میں پایا گیا ہے جو پرندوں کے ساتھ رہتے ہیں لیکن ماہرین صحت نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ یہ مرض باقی آبادی میں انفلوئنزا کی طرح بڑی آسانی سے جڑیں پکڑ سکتا ہے۔

اسی بارے میں
برڈفلو: سوال وجواب
15 October, 2005 | نیٹ سائنس
'برڈ فلو کی دوا نہ خریدیں'
17 October, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد