BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 January, 2006, 10:50 GMT 15:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترکی: تین افراد برڈ فلو سے ہلاک
پرندے
جنوب مشرقی ایشیا سے باہر منظرعام پر آنے والا ترکی میں برڈ فلو کا یہ تیسرا کیس ہے
ترکی کے مشرقی حصے میں ایک اور گیارہ سالہ لڑکی برڈ فلو کے وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئی ہے۔ اس طرح ترکی میں اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔

برڈ فلو عرف عام میں پرندوں یا مرغیوں سے انسانوں میں پھیلنے والی مہلک بیماری کو کہا جاتا ہے۔

مرنے والی لڑکی کا ایک بھائی اتوار جبکہ دوسری بہن جمعرات کو اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ترکی بھر میں پچیس افراد کو اس مرض کے آثار کے پیش نظر طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

ترکی نے برڈ فلو کے پھیلنے کےخطرے کے پیش نظر مشرقی حصے میں مرغی خانوں سے بیمار مرغیوں کو الگ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

ان کیسوں کے منظرعام پر آنے کے بعد پہلی مرتبہ براعظم ایشیا سے باہر اس مرض یعنی ایچ 5 این 1 کے وائرس انسانی جسم میں پائے جائے گئے ہیں۔

اس مرض میں مبتلا ہوکر مرنے والا لڑکا محمد علی اتوار کو مشرقی ترکی کےوین شہر میں ہلاک ہو گیا تھا اور اس کی پندرہ سالہ بہن فاطمہ جمعرات کو ہلاک ہوئی۔

مرنے والا لڑکا، اس کے بھائی اور بہنیں ایران کی سرحد کے قریب واقع ایک گاؤں میں مرغی خانے میں کام کرتے تھے۔

ترکی میں محکہ صحت کے ماہرین اس وائرس کے پھیلاؤ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم سرکاری سطح پر پرندوں میں اس قسم کے وائرس کے پائے جانے کی تاحال کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

انقرہ کی حیسٹیپی یونی ورسٹی کے مورت اکووا کا کہنا ہے کہ جانوروں سے تعلق رکھنے والے انسانوں کو خصوصی طبی امداد کی ضرورت ہے لیکن آبادی کی سطح پر ابھی اس بیماری کے خلاف ٹیکے لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔

برڈ فلو یا ایچ 5 این 1 کے نام سے یہ وائرس ترکی کے ساتھ روس، رومانیہ اور کروشیا میں بھی سامنے آیا ہے۔

ایشیا سے آنے والے پرندے براستہ ترکی مغرب کی طرف جاتے ہیں۔ ان پرندوں کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ اپنے ساتھ اس مرض کا وائرس بھی یہاں پھیلا رہے ہیں۔

تاہم ابھی تک اس مرض کا وائرس انہی لوگوں میں پایا گیا ہے جو پرندوں کے ساتھ رہتے ہیں لیکن ماہرین صحت نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ یہ مرض باقی آبادی میں انفلوئنزا کی طرح بڑی آسانی سے جڑیں پکڑ سکتا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا سے باہر منظرعام پر آنے والا ترکی میں برڈ فلو کا یہ تیسرا کیس ہے۔

اسی بارے میں
'برڈ فلو کی دوا نہ خریدیں'
17 October, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد