لاکھوں مرغیاں ہلاک کردی گئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست مہاراشٹر کے علاقہ نندوربار میں برڈ فلو کی تصدیق کے بعد سے ممبئی میں کسی بھی علاقہ سے مرغیاں لانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ممبئی میونسپل کاپوریشن نے احتیاطی اقدامات کے طور پر شہر کے تمام چیک ناکوں پر رات سے ہی پہرہ بٹھا دیا ہے اور ہدایت دے دی گئی ہیں کہ مرغیاں لانے والے کسی بھی ٹرک کو شہر میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق نوا پور علاقہ کے ایک پولٹری فارم کے مالک کی چار دنوں قبل موت ہو گئی۔ یہ شخص سورت کا رہنے والا تھا۔ سورت کے ضلعی کلکٹر وتسلا واسودیو کے مطابق برڈ فلو کے آٹھ مشتبہ افراد کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے اور تقریبا اسی افراد کے خون کے نمونے جانچ کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ نندوربار سے ملحق ریاست گجرات کے سورت علاقہ میں سرکاری حکام نے ہائی الرٹ کا اعلان کر دیا ہے۔گجرات جہاں صرف نو پولیٹری فارم ہیں، حکومت نے ویٹنیری ڈاکٹروں کی گیارہ ٹیم کو حالات پر نظر رکھنے اور مرغیوں کو انجیکشن دینے کے لیے مقرر کیا ہے۔ مہاراشٹر کے صحت عامہ کے وزیر ومل منڈرڈا نے کہا کہ ان کے شعبہ کے افسران گھر گھر جا کر لوگوں کی جانچ کر رہے ہیں۔ ممبئی میں خبر کے پھیلتے ہی لوگوں نے مرغیاں کھانا بند کر دی ہیں۔ باندرہ علاقہ کے ایک مرغی فروش مشتاق کا کہنا ہے کہ ’آج صبح سے مرغی لینے کوئی نہیں آیا ہے۔‘ مشتاق کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس وقت دو سو مرغیاں ہیں اور اگر اسی طرح لوگ خوفزدہ ہوکر مرغیاں نہیں کھائیں گے تو انہیں ہزاروں روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔ مشتاق کے مطابق سن دو ہزار تین میں جب اسی طرح دنیا کے دوسرے ممالک میں برڈ فلو کی خبر پھیلی تھی تب بھارت میں لوگوں نے ڈر کے مارے مرغیاں کھانی بند کر دی تھیں جس کے نتیجے میں انہیں دس سے پندرہ کلو کے حساب سے مرغیاں فروخت کرنی پڑی تھی۔ تاہم نامور ڈاکٹر الطاف پٹیل کا کہنا ہے کہ ’اگر مرغی کو برڈ فلو ہے بھی تو بھی اسے کھانے سے انسان کو یہ بیماری نہیں لگ سکتی ہے۔‘ ان کے مطابق متاثرہ زندہ مرغیوں کے پاس رہنے سے یہ وائرس انسانوں میں پھیل سکتا ہے۔ بھوپال کے ہائی سیکوریٹی انیمل لیبارٹری میں مردہ مرغیوں کے نمونوں کی جانچ کے بعد سے اب تک نوا پور اور اس کے اطراف کے تقریبا سولہ پولٹری فارم کی تقریبا سات لاکھ مرغیوں کو مارا جا چکا ہے۔ ریاستی وزیر برائے مویشی پالن انیس احمد نے بی بی سی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ ’دو سو ڈاکٹروں کی ایک ٹیم متاثرہ علاقوں میں روانہ کی گئی ہے جو اطراف کی مرغیوں کو مدافعتی انجکشن لگائیں گے۔‘ مرکزی حکومت نے ہرجانہ کے طور پر پولٹری فارم مالکان کو ہر مرغی کے لیے چالیس روپیہ دینے کا اعلان کیا ہے جس میں بیس روپیہ ریاستی حکومت ادا کرے گی اور مزید بیس روپیہ مرکزی حکومت۔ پولٹری مالکان معاوضہ کی اس رقم سے مطمئن نہیں ہیں ۔ ملک میں یہ تنازعہ بھی اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ آیا یہ بیماری برڈفلو ہی ہے یا یہ کسی کثیر ملکی کمپنیوں کا شاخسانہ ہے جو اپنی دوائیاں یہاں فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ ایگ کوآرڈینیشن کمیٹی کی صدر ڈاکٹر انورادھا دیسائی کا کہنا ہے کہ انہیں یہ شک ہے کہ جو بیماری پھیلی ہے وہ برڈ فلو ہے۔ ان کی مطابق یہ بیماری مرغیوں میں پھیلنے والی عام بیماری ’رانی کھیت‘ ہے جو ہر سال کی طرح اس سال بھی پھیلی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جو جانچ لیباریٹری میں ہوئی ہے اس کی دوسری رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیئے۔ تاہم ڈاکٹر دیسائی نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ کثیر ملکی کمپنیوں کی سازش ہو سکتی ہے جو اس بہانے ملک میں اپنی مدافعتی ٹیکے فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ | اسی بارے میں بھارتی کمپنی برڈ فلو کی دوا بنائے گی 24 December, 2005 | انڈیا ہندوستان میں برڈ فلو کی تصدیق18 February, 2006 | انڈیا ’ایشیاء کو برڈفلو سےزیادہ خطرہ‘12 January, 2006 | آس پاس ترکی برڈ فلو، اقوام متحدہ کا انتباہ11 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||