بھارتی کمپنی برڈ فلو کی دوا بنائے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئس دوا ساز کمپنی ’روشے‘ نے ایک بھارتی کمپنی کو بھارت اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے فلو کے خلاف مدافعتی دوائی ’تامی فلو‘ بنانےکا لائسنس دے دیا ہے۔ اس دوائی کی تیاری کا لائسنس ایک غیر معروف کمپنی ’ہٹیرو ڈرگز‘ کو دیا گیا ہے۔ ’روشے‘ کا کہنا ہے کہ اس کمپنی کو یہ لائسنس صرف اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ اس کمپنی نے اس بات کا تکنیکی ثبوت فراہم کیا تھا کہ وہ یہ دواتیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ اس قسم کا صرف دوسرا لائسنس ہے جو کہ ’روشے‘ کی جانب سے دیا گیا ہے۔ اس سے قبل ایک چینی کمپنی کو بھی اس دوا کی مقامی طور پر تیاری کے لیے اجازت دی گئی تھی۔ ’روشے‘ کمپنی کی اس دوائی کو انسانوں میں برڈ فلو پھیلنے کی ممکنہ صورت میں سب سے بہتر دوائی تصور کیا جاتا ہے اور اس فیصلے کے نتیجے میں غریب ممالک کے لیے اس دوا کا حصول آسان ہو جائے گا اور وہ اس دوا کا ذخیرہ کر سکیں گے۔ ’تامی فلو‘ نامی اس دوائی کی دنیا بھر میں بہت مانگ ہے اور دنیا بھر کے ممالک اس دوا کو خرید کر ذخیرہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ برڈ فلو کے ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔ ’تامی فلو‘ کی مقامی طور پر تیاری کی اجازت دی جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ’روشے‘ پر غریب ممالک کے دباؤ کا اثر پڑا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ سوئس کمپنی اپنے طور پر یہ دوا اتنی مقدار میں تیار نہیں کر سکتی کہ طلب کو پورا کیا جا سکے اور اس کے علاوہ مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کردہ اس دوا کی قیمت بھی بہت زیادہ ہے۔ | اسی بارے میں برڈ فلو: واحد دوا کے خلاف مدافعت 22 December, 2005 | نیٹ سائنس برڈ فلو سے نمٹنے کا امریکی منصوبہ 02 November, 2005 | نیٹ سائنس برڈفلو: سوال وجواب15 October, 2005 | نیٹ سائنس فلو: 150 ملین لوگ مرسکتے ہیں30 September, 2005 | نیٹ سائنس ہالینڈ میں مرغیاں گھر میں رہیں گی22 August, 2005 | نیٹ سائنس ویت نامی میں برڈ فلو 09 March, 2005 | نیٹ سائنس برڈ فلو انسان سے انسان کوممکن ہے21 February, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||