 | | | برڈ فلو متاثرہ پرندوں سے رابطے سے پھیل سکتا ہے |
فروری 2006 کے صرف ایک ہفتے کے دوران برڈ فلو کے کیس کئی ممالک میں سامنے آئے ہیں، جیسے ہندوستان، اٹلی، یونان، بلغاریہ، جرمنی، آسٹریا، فرانس، سلووینیا، ایران اور مصر۔ اس کے بارے میں بڑے پیمانے پر خدشات پائے جارہے ہیں کیوں کہ یہ مہلک بیماری پرندوں سے انسانوں تک پھیل رہی ہے۔ اس کے بارے میں تفصیلات حسب ذیل ہیں۔ برڈ فلو کیا ہے؟ کس وائرس سے پھیلتا ہے؟ فلو انسانوں کی طرح پرندوں کو بھی لاحق ہوسکتا ہے۔ فلو کے کئی اقسام ہوسکتے ہیں۔ جو فلو یعنی وائرس پرندوں اور انسانوں کے لیے مہلک ثابت ہورہا ہے اسے ایچ فائیو این ون یعنی H5N1 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسے عرف عام میں برڈ فلو کہا جانے لگا ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ یہ بیماری ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک موسمی ہجرت کرنے والے پرندوں کے ذریعے پھیل رہی ہے۔ برڈ فلو کب شروع ہوا؟ کیا یہ انسانوں میں پھیل سکتا ہے؟ برڈ فلو کا پہلا کیس 1997 میں ہانگ کانگ میں ایک شخص میں پایا گیا۔ انسان متاثرہ پرندوں سے رابطے میں آنے کے بعد ہی برڈ فلو کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس کے عام آثار ہیں: کھانسی، بخار، گلے میں خراش، فلو، وغیرہ۔ ویت نام میں سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ وائرس جسم کے کسی بھی حصے کو متاثر کرسکتا ہے۔ برڈ فلو کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے؟
 | ہلاکتوں کی شرح پچاس فیصد  برڈ فلو کا پہلا کیس 1997 میں ہانگ کانگ میں ایک شخص میں پایا گیا۔ اب تک 169 افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 91 افراد ہلاک ہوگئے۔ یعنی متاثرین میں سے پچاس فیصد ہلاک ہوئے۔  |
سن 1997 میں ہانگ کانگ کے ایک شخص میں پہلی بار برڈ فلو کی دریافت کے بعد اسے فروری 2003 میں دوبارہ ہانگ کانگ میں ہی ایک شخص اور اس کے بیٹے میں پایا گیا۔ اس وقت سے یہ ایشیا، یورپ، مشرق وسطی اور افریقہ میں پایا گیا ہے۔ چونکہ یہ پرندوں کے ذریعے پھیل رہا ہے اس لیے حکومتیں اسے روکنے میں بااثر اقدام نہیں اٹھا پارہی ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ برڈ فلو کس تیزی سے پھیل رہا ہے تاہم اس کے کچھ واقعات کئی ممالک میں اچانک ابھر کر سانے آرہے ہیں تاہم وہ بڑے پیمانے پر نہیں ہیں کہ انہیں وبا کہا جاسکے۔ کتنے انسان برڈ فلو کا شکار ہوئے ہیں؟ کتنے لوگ ہلاک ہوئے؟ صحت عامہ سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق تیرہ فروری 2006 تک انسانوں میں برڈ فلو کے 169 کیس پائے گئے۔ اس وائرس سے متاثر ہونے والے یہ لوگ انڈونیشیا، ویت نام، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، چین، ترکی اور عراق میں تھے۔ ان میں سے 91 افراد ہلاک ہوگئے۔ برڈ فلو عام طور پر متاثرہ پرندوں یا مرغیوں سے انسانوں میں پھیل رہا ہے۔ تو کیا برڈ فلو انسان سے انسان تک پھیل سکتا ہے؟ عام طور پر یہ وائرس بیمار مرغیوں سے انسانوں میں پھیل رہا ہے۔ لیکن اس بات کے شواہد بھی ملے ہیں کہ یہ انسان سے انسان تک پھیل رہا ہے، لیکن اس بڑے پیمانے پر نہیں کہ عام پریشانی کا سب بنے۔ تھائی لینڈ میں ایک ایسا کیس پایا گیا جس میں یہ بیماری ایک لڑکی سے اس کی ماں تک پھیل گئی۔ ماں اور بیٹی ہلاک ہوگئیں لڑکی کی چچی جو اس سے متاثر ہوئی تھی بچ گئی۔ کیا برڈ فلو سے بچنے کا ٹیکہ دستیاب ہے؟ حتمی طور پر اس کا کوئی خصوصی ٹیکہ نہیں بنا ہے، لیکن کچھ ایسی اینٹی وائرل دوائیں ہیں جو اسے روکنے میں معاون ہوسکتی ہیں، مثال کے طور پر Tamiflu یعنی ٹامی فلو یا ایس ہی کچھ دوائیں۔ طبی ماہرین ٹیکے کے لیے ریسرچ کررہے ہیں۔ ایسے حالات میں کیا مرغیوں کا گوشت کھانا ٹھیک ہے؟
 | کیا مرغی کا گوشت کھاسکتے ہیں؟  ماہرین کا کہنا ہے کہ مرغی کا گوشت کھانے سے برڈ فلو نہیں پھیل سکتا ہے کیوں کہ یہ وائرس غذا سے نہیں پھیلتا۔ تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر 70 ڈِگری سیلسیئس پر کھانا پکایا جائےتو برڈ فلو کا کوئی چانس نہیں۔  |
ماہرین کا کہنا ہے کہ برڈ فلو کھانے کی اشیاء سے نہیں پھیل رہا ہے۔ صرف وہی لوگ اس سے متاثر ہوسکتے ہیں جو گوشت بنانے کے کام میں براہ راست شامل ہیں۔ کئی ممالک کے ڈاکٹر اس بات پر متفق ہیں کہ مرغیوں کا گوشت کھانے سے یہ بیماری نہیں پھیل سکتی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ گوشت کو اگر 70 ڈِگری سیلسیئس پر پکایا جاتا تو حتمی طور پر محفوظ ہے۔ ساتھ ہی مرغی کے انڈے بھی اچھی طرح پکانے کی ضرورت ہے۔کن ممالک میں انسان برڈ فلو کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں؟ برڈ فلو سے کل 169 افراد متاثر ہوئے جن میں سے تیرہ فروری 2006 تک 91 افراد ہلاک ہوگئے۔ ویت نام میں 93 متاثر ہونے والے افراد میں سے 42 ہلاک ہوئے، انڈونیشیا میں 25 متاثرین میں سے 18 افراد ہلاک ہوگئے، تھائی لینڈ میں 22 سے 14 ہلاک، چین میں 12 میں سے آٹھ ہلاک، ترکی اور کمبوڈیا میں چار چار ہلاکتیں، عراق میں ایک ہلاک، وغیرہ۔ برڈ فلو روکنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جارہے ہیں؟ ہر ملک میں جہاں یہ پایا گیا بڑے پیمانے پر مرغیاں ہلاک کردی گئیں۔ پولٹری فارم کے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اجنبی پرندوں کو اپنی مرغیوں میں شامل نہ ہونے دیں۔ جنوری 2006 میں بڑے بڑے امدادی ممالک نے لگ بھگ دو بلین ڈالر اس کی روک تھام کے لیے دینے کا وعدہ کیا تاکہ اسے پھیلنے سے روکا جاسکے۔ کیا برڈ فلو کے واقعات وبا کی شکل اختیار کرسکتے ہیں؟ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ پرندوں کے ذریعے پھیل رہا ہے اس لیے اسے روکنا اتنا آسان تو نہیں ہے لیکن احتیاطی اقدامات کے ذریعے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اسی لیے کئی ممالک میں مرغیاں لاکھوں کی تعداد میں ہلاک کردی گئی ہیں۔ تاہم برڈ فلو 1918 میں آنے والی فلو وبا کی طرح شدید بھی ہوسکتی ہے جس میں پانچ کروڑ لوگ ہلاک ہوگئےتھے۔ |