فلووائرس: سائنسدانوں کا انتباہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پہلی جنگ عظیم کے بعد پھیلنے والی انفلوئنزا کی وبا کا مطالعہ کرنے والے سائنس دانوں نے پرندوں کے موجودہ ایشیائی فلو کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ انیس سو اٹھارہ میں بھی پرندوں کے وائرس سے فلو شروع ہوا تھا اور پھر تبدیل کر انسانوں کاانفلوئنزا بن گیا تھا۔ اس انفلوئنزہ نے دو کروڑ سے زیادہ افراد کی جان لی تھی۔ سائنس داں کہتے ہیں کہ فلو کی وہ قسم تو اب ختم ہو چکی ہے لیکن پرندوں کی موجودہ وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ مطالعہ مفید ثابت ہوگا۔ ادھر اقوام متحدہ کے صحت کے ماہروں نے روم کے اجلاس میں اس فلو کی روک تھام کے لیے بہت سے اقدامات کے بارے میں غور کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل نے خبردار کیا ہے کہ وبا پر ابھی قابو نہیں پایا جاسکا ہے اور متاثرہ مرغیوں اور پرندوں کو بڑے پیمانے پر ہلاک کرنا بے حد ضروری ہے۔ دریں اثنا بھارتی ریاست آسام میں بنگلہ دیش کی سرحد کے ایک قریبی ضلعے میں ہزارہا مرغیاں کسی نامعلوم بیماری میں مر گئی ہیں۔ ڈھبری کے ڈسٹرکٹ کمشنر پرشانت بروآ نے بی بی سی کو بتایا کہ دیہات میں دس ہزار سی زیادہ مرغیاں پچھلے دس دن میں مری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرغیوں پر کپکپی طاری ہوتی ہے جس کے بعد وہ چند گھنٹوں کے اندر مر جاتی ہیں۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے کلکتے سے بتایا ہے کہ دیہات والوں کو اندیشہ ہے کہ کہیں جنوب مشرقی ایشیا سے پرندوں کا فلو اس سرحدی علاقے میں نہ پہنچ گیا ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||