BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وائرس سے پولٹری کا کاروبار مندا‘

پولٹری فارمز
ایچ فائیو کی بیماری لیئر یعنی انڈے دینے والی مرغیوں میں پائی گئی
صوبہ سرحد میں دو پولٹری فارمز میں ایچ فائیو وائرس کی تصدیق کے بعد تاجروں نے مرغیوں کے کاروبار پر برا اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

حکومت نے پیر کی روز برڈ فلو کے پھیلنے کی تو تردید کی تاہم اس کا کہنا تھا کہ صوبہ سرحد کے ضلع ایبٹ آباد اور چارسدہ کے دو فارمز پر ایچ فائیو نامی وائرس نے حملہ ضرور کیا ہے۔

تاہم برڈ فلو کی افواہیں صبح سے گرم تھیں۔ پشاور کے چند مقامی اخبارات نے تو شہ سرخیوں میں برڈ فلو سے دو ہزار مرغیوں کے ہلاک ہونے کا اعلان بھی کر دیا۔

ان خبروں سے پولٹری کے کاروبار سے منسلک افراد میں تشویش پھیل گئی۔ آل سرحد پولٹری ایسوسی ایشن کے عہدیدار حکام سے درست صورتحال معلوم کرنے کے لئے ان کے دفاتر کے چکر لگاتے رہے۔

پولٹری ایسوسی ایشن کے قائم مقام صدر حاجی نور ولی کے مطابق ابھی مرغیوں کی خریدو فروخت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے تاہم آنے والے دنوں میں برا اثر ضرور پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ یہ ایچ فائیو کی بیماری بھی صرف لیئر یعنی انڈے دینے والی مرغیوں میں پائی گئی ہے اور گوشت والی مرغیاں اس سے پاک ہیں۔ انہیں کھانے میں کوئی خطرہ نہیں۔

گوشت والی مرغیاں کھانے میں کوئی خطرہ نہیں۔

ایسوسی ایشن کے موقف کے پرعکس پشاور میں باچا خان چوک میں پولٹری کی دوکان چلانے والے ایک تاجر انور خان کے مطابق اس خبر کا اثر بازار پر بہت برا پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسّی سے پچاسی فیصد کاروبار متاثر ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’خریدار بھی نہیں آ رہے اور دوسرا مختلف ہوٹلوں کی انتظامیہ نے بھی اپنے آڈر منسوخ کر دیے ہیں۔ ہماری دوکان میں آج پانچ چھ ہزار کا فرق پڑا ہے‘۔

ان خبروں سے مرغیوں کے نرخ پیر کو زیادہ تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ تاہم تاجروں کو خدشہ ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو منگل کے روز نرخ بھی گر جائیں گے۔

پاکستان میں تین برس پہلے بھی ایچ نائن اور سیون وائرس کی وجہ سے پولٹری صنعت کو ایک ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔ ماہرین کے مطابق ایچ نائن اور سیون کی طرح ایچ فائیو وائرس بھی انسانوں کے لئے خطرناک نہیں۔

’بہت کم لوگوں نے چکن کھایا ہے‘

پشاور کے مشہور ریسٹورنٹ کے مالک اجمل شیراز سے پوچھا گیا کہ ان کے مہمانوں پر اس خبر کا کتنا اثر پڑا تو ان کا کہنا تھا کہ ’لوگ ڈر گئے ہیں اور ہم بھی کوشش کر رہے ہیں کہ اب سیل نہ کریں۔ بہت کم لوگوں نے چکن کھایا ہے‘۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ بھی مرغیوں کے آڈر منسوخ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہر شخص کے لئے یہ ایک مسئلہ تو بنا ہوا ہے۔ کوشش کر رہے ہیں اب بیف اور مٹن پر زیادہ زور دیں‘۔

پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق گوشت کی پینتالیس فیصد ضرورت مرغی سے پوری کی جاتی ہے۔ اجمل شیراز کا کہنا تھا کہ ان کی اسی فیصد ڈشیں چکن سے ہی بنتی ہیں۔

صوبہ سرحد میں ایک اندازے کے مطابق تین ہزار پولٹری فارم موجود ہیں جن میں ہزاروں لوگوں کو روزگار ملا ہوا ہے۔ خدشہ ہے کہ مرغی کے کاروبار کا اثر اس تجارت سے منسلک افراد پر بہت شدید ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں
کراچی کی مرغیاں بھی متاثر
24 January, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد