پاکستان میں پولٹری صنعت والے پریشان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا میں پرندوں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے برڈ فلو کے واقعات سامنے آنے کے بعد سے پاکستان میں کافی تشویش پائی جاتی ہے اور پولٹری کی صنعت سے وابستہ لوگ سب سے زیادہ یشان دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں بھی ان دنوں برڈفلو کا بہت زیادہ تذکرہ ہے اور مقامی ٹیلی ویژن چینل ہوں یا اخبارات، بڑھ چڑھ کر اس کی تفصیلات اور خبریں پیش کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ تاہم اس معاملے کا ایک پہلو پاکستانی عوام کی خوراک کا اہم ترین جز برائیلر چکن ہے جو بعض اندازوں کے مطابق گوشت کی ضروریات کا پچاس فیصد حصہ پورا کرتا ہے۔ گوشت کے لیے پالی جانے والی برائیلر مرغیوں کی فارمنگ یا پرورش بھی ملکی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے چیف کنوینر معروف صدیقی کے مطابق اس صنعت میں دسیوں ارب روپے کی سرمایہ کاری ہے اور لاکھوں افراد کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔ ان کے مطابق ملک میں تیس ہزار کے لگ بھگ پولٹری فارموں میں تقریباً ستر ارب روپے کی سرمایہ کاری ہے اور بارہ لاکھ سے زیادہ لوگوں کا بالواسطہ یا براہ راست اس روزگار سے وابستہ ہے
تین برس پہلے پاکستان میں ایوئین فلو کی وباء پھیلنے سے پولٹری صنعت اور مرغیوں کا گوشت فروخت کرنے والوں کو زبردست نقصان ہوا تھا اور مرغی کے گوشت کی قیمت میں اسی فیصد تک کمی ہوگئی تھی۔ دکانداروں کے مطابق اس مرتبہ ابھی تک مرغی کے گوشت کی فروخت بہت زیادہ متاثر نہیں ہوئی ہے اور قیمت میں بھی دس بارہ فیصد فرق ہی آیا ہے جو معمول سے بہت مختلف نہیں ہے۔ پولٹری ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں برڈفلو پھیلنے کے امکانات اس لیئے بھی کم ہیں کہ تین برس پہلے کی وباء کے بعد سے اب ملک میں مرغیوں کو باقاعدگی سے حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ حفاظتی ٹیکوں کا یہ سلسلہ ایوئین فلو کے وقت سے جاری ہے اور پولٹری ایسوسی ایشن کے مطابق اس کی وجہ سے بھی پاکستان میں برڈ فلو کے امکانات بہت کم ہیں۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ بڑے شہروں میں تو برڈفلو اور اس جیسی وباؤں کی آگہی زیادہ بہتر ہوتی ہے لیکن کیا دیہی علاقوں میں بھی فارمنگ کرنے والے بھی احتیاطی تدابیر اچھی طرح اختیار کرتے ہیں؟ سندھ پولٹری ویکسین سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائیریکٹر ڈاکٹر شفقت فاطمہ کہتی ہیں کہ مرغیوں کی پرورش کرنے والا اب بہت آگاہ ہے اور وہ اپنے سرمایے کی حفاظت کے لیے ٹیکوں سمیت تمام ذرائع استعمال کرتا ہے۔ پاکستان میں ابھی تک نہ تو کہیں سے بھی برڈ فلو کی کوئی اطلاع ملی نہ ہی اس عالمی وباء سے پاکستانی عوام میں زیادہ سراسیمگی کے آثار ہیں، لیکن یہ صورتحال کب تک برقرار رہتی ہے، یہ بات پاکستان کے حفاظتی اقدامات موثر ہونے کا امتحان بھی ہوگی۔ |
اسی بارے میں پاکستان: مرغیاں لانے پر پابندی20 February, 2006 | پاکستان پاکستانی مرغی پابندیاں، پریشانیاں28 January, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||