سرحد میں 25000 مرغیاں تلف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد میں حکام نے دو پولٹری فارمز میں ایچ فائیو ایویان انفلونزا وائرس کی موجودگی کی تصدیق کے بعد پچیس ہزار مرغیاں تلف کر دی ہیں۔ حکام نے پیر کے روز چارسدہ اور ایبٹ آباد میں دو فارمز میں ایچ فائیو انفلونزا کی موجودگی کی تصدیق کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ ان مرغیوں کو ہلاک کر دیا جائے۔ حفاظتی لباس اور ماسک پہنے محکمۂ صحت کے حکام نے چارسدہ میں پیر کی رات ہی مرغیوں کو بڑے پلاسٹک تھیلوں میں بند کر کے زہریلی گیس سے ہلاک کر دیا۔ بعد میں انہیں قریب ہی زمین میں گہرے گڑھے میں دفنا دیا گیا۔ چارسدہ میں ایک پولٹری فارم کے عنایت اللہ خان نے بتایا کہ حکومت نے انہیں ان مرغیوں کا معاوضہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حکومت سے فی مرغی ڈیڑھ سو روپے کا تقاضہ کیا ہے۔ مذکورہ پولٹری فارم کے ملازمین نے بتایا کہ اس فارم میں اس وقت بھی دس ہزار انڈے دینے والی مرغیاں پالی جا رہی ہیں۔ وزارت خوراک کے ڈاکٹر محمد افضل کے مطابق ان دو فارمز میں ’لو پیتھجینک ایویان انفلونزا وائرس‘ یعنی ایچ فائیو کے شواہد ملے ہیں جو کہ برڈ فلو نہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے تعین کے لیئے کہ آیا یہ ایچ فائیو این ون وائرس ہے یا نہیں حاصل کیے گئے نمونے لندن روانہ کیے جائیں گے جن کے تنائج ایک ہفتے تک مل سکیں گے۔ اب تمام نطریں لندن میں کیئے جانے والے ٹیسٹ پر ہوں گی جن میں برڈ فلو کے شواہد ملنے پر حکام کو مزید مرغیوں کی ہلاکت جیسے اقدامات کرنے پڑیں گے۔ ماہرین کے مطابق ایچ فائیو وائرس انسانوں کے لئے خطرناک نہیں۔ تین برس پہلے بھی ایچ نائن اور سیون وائرس کی وجہ سے پولٹری صنعت کو ایک ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔ |
اسی بارے میں پاکستان: دو پولٹری فارمز میں وائرس 27 February, 2006 | پاکستان پاکستان میں پولٹری صنعت والے پریشان23 February, 2006 | پاکستان پاکستان: مرغیاں لانے پر پابندی20 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||