پولٹری صنعت کو شدید نقصان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں مرغیوں میں برڈ فلو کی تشخیص کے بعد سے ملک کی پولٹری انڈسٹری کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ بھارت سے پولٹری درآمد کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک پنتالیس ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔ بھارت کی پولٹری انڈسٹری کا حجم ساڑھے چھ بلین ڈالر سے زیادہ ہے اور بھارت دنیا میں انڈے اور مرغیاں پیدا کرنے والے چند بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔ پاکستان، سری لنکا اور نیپال کی جانب سے بھارت سے مرغیوں کی درآمد پر پابندی کے بعد اب بھارتی درآمدکنندگان کو خطرہ ہے کہ کہیں خلیجی ممالک بھی اس قسم کی پابندی نہ لگا دیں۔ آل انڈیا پولٹری پروڈکٹس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری پی والسن کا کہنا ہے کہ’ خلیجی ممالک انڈوں اور مرغی کے گوشت کی برآمد کی سب سے بڑی منڈی ہیں اور اگر پابندی لگی تو خطرہ ہے کہ ہمیں گیارہ اعشاریہ دو ملین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے‘۔ پولٹری کا کاروبار کرنے والے افراد نے بھارتی حکومت سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ عوام میں پیدا ہونے والی بے چینی کا تدارک کرے۔ بھارت بھر میں مرغی کے گوشت کی فروخت میں شدید کمی آ گئی ہے اور گوشت کی قیمت میں چالیس فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ | اسی بارے میں بھارت: مسافروں کے لیے چکن بند21 February, 2006 | انڈیا دلی: مرغی بازار برڈ فلو سےمتاثر 20 February, 2006 | انڈیا لاکھوں مرغیاں ہلاک کردی گئیں19 February, 2006 | انڈیا ہندوستان میں برڈ فلو کی تصدیق18 February, 2006 | انڈیا ’ایشیاء کو برڈفلو سےزیادہ خطرہ‘12 January, 2006 | آس پاس ترکی برڈ فلو، اقوام متحدہ کا انتباہ11 January, 2006 | آس پاس بھارتی کمپنی برڈ فلو کی دوا بنائے گی 24 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||