دلی: مرغی بازار برڈ فلو سےمتاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی بھارت کا سب سے بڑا مرغی بازار ’غازی پور منڈی‘ برڈ فلو سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ گزشتہ دو دنوں میں منڈی میں مرغیوں کی قیمتیں گر گئیں ہیں اور بازار مندہ پڑ گیا ہے۔ اتوار کو ڈیڑھ کلو چکن کی قیمت چالیس روپے فی کلو سےگر کر پچیس روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھی لیکن پیر کی صبح تک یہ قیمتیں تیس روپے فی کلو تک گرگئی تھیں۔ حالانکہ منڈی میں مرغیوں کی تجارت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ افواہ تو ضرور تیزی سے پھیل رہی ہیں لیکن فی الوقت ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس بات سے بھی انکار نہیں کیا کہ مرغیاں فروخت کرنے میں کچھ دقتیں پیش آ رہی ہیں۔
منڈی کے لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ مرغیاں ہریانہ ، راجستھان اور اتر پردیش سے لائی جاتی ہیں اس لیئے ان میں برڈ فلو ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔ ایک تاجر کا کہنا تھا کہ ’ کوئی برڈ فلو نہیں ہے۔ یہ افواہیں میڈیا نے پھیلائی ہیں۔ اس سے پہلے بھی میڈیا نے ایسا کیا تھا لیکن اس وقت بھی کچھ نہیں نکلا تھا‘۔ دوسری جانب بعض لوگ مرغیوں کی قیمتیں کم ہونے کا فائدہ بھی اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک محمد تقی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’عام دنوں میں میں صرف ایک سو مرغیاں ہی خریدتا ہوں لیکن کم داموں کے سبب میں نے دو سو مرغیاں خریدی ہیں، میں یہ بھی جانتا ہوں کہ انہیں فروخت کرنے میں مجھے دقت ضرور پیش آئے گی‘۔ حکومت کی طرف سےمنڈی میں دو ڈاکٹروں کو مقرر کیا گیا ہے اور یہ مرغیوں کے خون کی مسلسل جانچ کر رہے ہیں۔ محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ ’سال دو ہزار چار ہی سے دلی حکومت نے دو ڈاکٹروں کو یہاں مقرر کیا ہے۔ ڈاکٹر مرغیوں کے خون کی جانچ کرتے رہتے ہیں‘۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جلد ہی مزید دو اور ڈاکٹر بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔ لیکن یہاں آنے والے بعض خریدار ایسے بھی تھےجو برڈ فلو کے ڈر سے با لکل بھی متاثر نہیں تھے۔ ایسے ہی ایک خریدار جگیاس نے بے جھجھک انڈے اور مرغی خریدی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب کچھ ہوا ہی نہیں تو کھانا کیوں بند کر دیا جائے‘۔ لیکن ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی بھی ہے جو برڈ فلو کے سبب انڈے اور مرغی نہیں کھا رہے ہیں۔ منڈی کے باہر حاجی عبد اللہ کی دکان اس بات کا ثبوت پیش کرتی ہے۔ حاجی صاحب صرف مٹن بریانی فروخت کرتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں ان کا کاروبار کافی اچھا چل رہا ہے۔ غازی پور منڈی میں دلی کی تین پڑوسی ریاستوں سے مرغیاں آتی ہیں اور عام دنوں میں یہاں ہر روز ایک لاکھ مرغیوں کی خرید و فروخت کی جاتی ہے۔ |
اسی بارے میں ہندوستان میں برڈ فلو کی تصدیق18 February, 2006 | انڈیا لاکھوں مرغیاں ہلاک کردی گئیں19 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||