BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 February, 2006, 01:21 GMT 06:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منگلا جھیل میں مردہ پرندے

منگلا ڈیم
منگلہ جھیل پر ہر سال ہزاروں آبی پرندے آتے ہیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے حکام کا کہنا ہے کہ سائبیریا سے آنے والی دو سو سے زائد آبی پرندے منگلا جھیل میں مردہ پائے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی پورسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق یہ پرندے زہر کھانے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ آبی پرندے اور وہ بھی ایک ہی وقت میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محکہ تحفظ جنگلی حیات کے ڈپٹی ڈائریکڑ چوہدری محمد رزاق نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا چند روز قبل میرپور میں منگلہ جھیل کے کنارے پر کوئی ڈھائی سو کے قریب آبی پرندے مردہ پائے گئے۔ ان آبی پرندوں میں مرغابیوں کی نسل سرخاب کے علاوہ مگ شامل ہے۔

پرندے مر گئے
 ابتدائی پورسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ یہ آبی پرندے زہر کھانے سے ہلاک ہوئے ہیں۔ آبی پرندوں کی یہ دو ایسی نسلیں ہیں جو دانہ کھاتی ہیں اور یہ کہ عین ممکن ہے کہ انھوں نے زہیریلے گندم کی بیج کھائے ہوں۔ بعض اوقات کچھ کسان گندم کی فصل کو دیمک سے بچانے کے لیے کاشت کے وقت گندم کے بیچ کے ساتھ زہر ملاتے ہیں
تحفظ جنگلی حیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر چوہدری محمد رزاق

انھوں نے کہا کہ ابتدائی پورسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ یہ آبی پرندے زہر کھانے سے ہلاک ہوئے ہیں ۔
ا
نھوں نے کہا کہ آبی پرندوں کی یہ دو ایسی نسلیں ہیں جو دانہ کھاتی ہیں اور یہ کہ عین ممکن ہے کہ انھوں نے زہیریلے گندم کی بیج کھائے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ بعض اوقات کچھ کسان گندم کی فصل کو دیمک سے بچانے کے لیے کاشت کے وقت گندم کے بیچ کے ساتھ زہر ملاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حالات بھی یہی نشاندھی کرتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ ان پرندوں کی ہلاکتیں زہر کی وجہ سے ہی ہوئی ہوں۔ محکہ تحفظ جنگلی حیات کے ڈپٹی ڈائریکڑ چوہدری محمد رزاق کے مطابق آبی پرندوں کی بائیس نسلوں میں سے صرف یہی دو نسلیں متاثر ہوئیں اور یہی دو نسلیں جھیل کے کنارے پر آکر دانے کھاتی ہیں جب کہ باقی نسلیں پانی کے اندر ہی رہتی ہیں۔

منگلا جھیل کے کنارے لوگ اس موسم میں گندم کی کاشت کرتے ہیں کیوں کہ اس عرصے میں جھیل میں پانی کی سطح کم ہوجاتی ہے اور زمین سامنے آتی ہے ۔

محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے افسر چوہدری رزاق کا کہنا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی شکاری نے ان آبی پرندوں کو پکڑنے کے لیے جھیل کے کنارے زہر پھینکا ہو ۔ انھوں نے کہا کہ سن انیس سو چھیانوے میں کچھ شکاریوں نے زہر پھینک کر ان آبی پرندوں کو پکڑنے کی کوشش کی تھی جو بعد میں بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے تھے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ شکاری کم اثر والا زہر استعمال کرتے ہیں تاکہ یہ پرندے ہلاک نہ ہوں ۔

تاہم مسڑ رزاق کا کہنا تھا کہ وہ ان مردہ پرندوں کو اسلام آباد میں قائم نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایگریکلچرل سائنسز میں تفصیلی کیمیائی تجزئے کے لیے بھیج رہے ہیں اور وہاں سے رپورٹ آنے کے بعد ہی صیح صورت حال کا پتہ چل سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہاں سے چند دنوں میں رپورٹ آجائے گی ۔

یہ آبی پرندے جن میں مرغابیوں کی اٹھارہ نسلیں، دو کونج کی نسلیں اور دو مگ کی نسلیں شامل ہیں ہر سال سائبیریا سے چھبیس ہزار کلومیڑ کا سفر طے کر کے منگلا پہنچتی ہیں۔ وائلڈ لائف کے ڈپٹی ڈائریکڑ کا کہنا ہے کہ ہر سال ایک لاکھ سے زائد آبی پرندے منگلا جھیل آتے ہیں۔ یہ پریندے اگست میں آنا شروع ہوتے ہیں اور دسمبر اور جنوری تک آتے رہتے ہیں اور پھر یہ جنوری میں واپس جانا شروع ہوتے ہیں اور اپریل تک یہ سارے آبی پرندے واپس چلے جاتے ہیں ۔

چوہدری رزاق کا کہنا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق ہرسال منگلا جھیل میں تیس ہزار پرندے مختلف طریقوں سے شکار کیے جاتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ’ہمیں ان کے تحفظ میں اس لیے مشکلات پیش آتی ہیں کیونکہ ہمارے پاس سٹاف اور فنڈز دونوں کی کمی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے پاس تیز رفتار کشتیاں نہیں ہے تاکہ دو سو اٹھاون مربع کلومیڑ جھیل پر نظر رکھی جاسکے‘۔

اسی بارے میں
برڈ فلو اور تاجروں کا غصہ
22 February, 2006 | انڈیا
مہلک برڈ فلو کا دائرہ پھیل گیا
19 February, 2006 | نیٹ سائنس
برڈ فلو ہے کیا؟
10 January, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد