BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 February, 2006, 10:55 GMT 15:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برڈ فلو اور تاجروں کا غصہ

برڈ فلو
’لاعلمی کے باعث لوگوں میں تشویش بلاوجہ بڑھ رہی ہے‘
بھارت میں برڈ فلو کی سب سے پہلا انکشاف سنیچر کو ممبئی کے شمالی علاقے میں ہوا اور اب تمام شہر اس پر شدید تشویش کا شکار ہے۔

ناصر شیخ جنوبی ممبئی میں ایک پولٹری فارم کے مالک ہیں اور سنیچر کے بعد سے ان کے کاروبار میں اسی فیصد کمی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے مصروف ترین کاروبار کا اب یہ عالم ہے کہ دن بھر میں دو مرغیاں بیچنا بھی مشکل نظر آتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ لاعلمی کے باعث لوگوں میں تشویش بلا وجہ بڑھ رہی ہے۔ ناصر شیخ کا کہنا ہے کہ ان کی دکان کا مال ماہر ڈاکٹروں کے معائنے کے بعد آتا ہے ’اور یوں بھی اب تک چکن کھانے سے تو یہ مرض کسی کو نہیں لگا‘۔

اس معاملے پر ناصر ہی صرف ایک شخص نہیں جو غم و غصہ کا شکار ہے۔ تاجروں کو غصہ ہے کہ لوگوں کو یہ کیوں نہیں بتایا جارہا کہ مرغی اور انڈے مناسب طور پر پکانے سے ان میں کسی قسم کا خطرہ نہیں رہتا۔

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت اس سلسلے میں عوام کو ملے جلے تاثرات دے رہی ہے۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ یہ چیزیں کھانے سے کچھ نہیں ہوتا تو دوسری طرف اپنی ایئر لائنوں اور ریلوے میں چکن کی ڈش پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

یوسف سلیمان شیخ نامی تاجر کا کہنا ہے کہ پچھلے تیس سال کے دوران پہلی مرتبہ کاروبار میں اتنی مندی آئی ہے۔

شہر کے ریستورانوں نے چکن کی ڈش کے بارے میں محتاط رویہ اپنا لیا ہے۔ چکن کی ڈشیں محدود کردی گئی ہیں جبکہ بہت سی ڈشوں میں انڈے کا استعمال ترک کردیا گیا ہے۔

ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ لوگ چکن کے بجائے بکرے اور سی فوڈ کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ ایک ہوٹل کے مالک نے بتایا کہ ایک شخص نے اس کے ہوٹل پر ایک بڑی پارٹی کا انتظام کیا ’میں نے اسے کہا کہ چکن کی ڈشیں بنوالیں، اگر آپ کوکوئی شک ہے تو میں آپ کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کو تیار ہوں مگر وہ نہ مانا اور مچھلی اور بکرے کے گوشت سے کام چلایا‘۔

ان حالات میں شہر میں مچھلی اور بکرے کی قیمتیں تقریباً دگنی ہو چکی ہیں۔

تاہم کچھ افراد نہایت بہادری سے اب بھی چکن کھانے سے نہیں ہچکچاتے۔ حنا کہتی ہیں کہ یہ ان کی پسندیدہ ڈش ہے اس لیے وہ چکن کھانا نہیں چھوڑ سکتیں، ’میں یہ بات یقینی بناتی ہوں کہ چکن اچھی دکان سے خریدوں‘۔

اگرچہ تاجروں نے ابھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے تاہم اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ برڈ فلو کی بڑھتی ہوئی خبروں کے ساتھ مستقبل قریب میں کوئی بہتری آسکے گی۔

اسی بارے میں
برڈ فلو کے 7 مزید مریض؟
21 February, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد