ریت سے برڈ فلو کے خلاف مہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست اڑیسہ کے ساحلی شہر پوری میں ایک مجسمہ ساز نے برڈ فلو کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لیے ریت سے مرغے کی ایک بڑی مورتی بنائی ہے۔ مجسمہ ساز سدرشان پاٹنیک اس سے پہلے تاج محل اور سونامی کی مورتیاں بنا کر ریت کے مجسمے بنانے میں شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ انہیں ریت کا یہ مرغا بنانے میں پانچ گھنٹے کا وقت لگا اور اس عمل میں آٹھ ٹن ریت استعمال ہوئی۔ سینچر کو مہاراشٹر کے شہر نواپور میں برڈ فلو کا پہلا کیس منظر عام پر آیا تھا۔ سدرشان پاٹنیک نے رائٹرز نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ ریت کا مجسمہ بنیادی طور پر لوگوں میں شعور پیدا کرنے کے لیے ہے کیونکہ بہت سے لوگ اس کے بارے میں علم نہیں رکھتے اور ساحل ایسی جگہ ہے جہاں بہت سے مقامی اور غیر ملکی سیاح آتے ہیں‘۔ ایک سیاح ونکت رامن کا کہنا تھا کہ ’جس انداز سے انہوں نے یہ مجسمے بنائے ہیں ان سے مطلوبہ پیغام بالکل صحیح طریقے سے پہنچ رہا ہے۔ یہ لوگوں تک بات پہنچانے کا بہت اچھا طریقہ ہے‘۔ اس مجسمے کو ساحل پر بنایا گیا ہے اور اس کے ساتھ برڈ فلو سے خبردار کرنے والے پوسٹر بھی آویزاں ہیں۔ پاٹنیک اور ان کے ساتھیوں نے مرغے کے ساتھ ریت کی مرغیاں اور انڈے بھی بنائے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’ایشیاء کو برڈفلو سےزیادہ خطرہ‘12 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||