برڈ فلو کے 7 مزید مریض؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست مہاراشٹر میں بعض افراد میں برڈ فلو جیسی بیماری کی علامات پائی گئی ہیں لیکن ابھی اس بات کی جانچ ہو رہی ہے کہ آیا یہ اطلاعات درست ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے 7 افراد کو جن میں سے زیادہ تر بچے ہیں ہسپتال میں سب سے الگ تھلگ وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ اسی دوران مرغیوں کے مارنے کا کام تیزی سے جاری ہے لیکن اس وائرس کے مزید علاقوں میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ مرغیوں میں برڈ فلو کا انکشاف گزشتہ ہفتے کے روز ہوا تھا اور اس دن بھی دو افراد کو شک کی بنیاد پر ہسپتال میں علیحدہ جگہ پر رکھا گیا تھا لیکن محکمہ صحت کے حکام نےمنگل کواس بات کی تصدیق کی ہے کہ سات مزید افراد میں برڈ فلو جیسی علامات کا پتہ چلا ہے اسی لیے انہیں الگ تھلک رکھا گیا ہے۔ مہا راشٹر میں محکمہ صحت کے ڈائریکٹر پی پی ڈوک نے بتایا ہے کہ نئے متاثرہ مریض زیادہ تر ایسے بچےہیں جو فارم ہاؤس میں مردہ پرندوں کو اٹھانے کا کام کرتے تھے۔ ’انہیں نوا پور ہسپتال میں بالکل علحیدہ رکھا گیا ہے اور جب تک انکے خون کی جانچ کی رپورٹ نہیں آتی انہیں اسی حالت میں رکھا جائےگا۔‘ مسٹر ڈوک نے کہا کہ جن مریضوں کو سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے انکی حالت زیادہ خراب نہیں ہے لیکن ’انہیں بہت تیز بخار ہے اور کھانسی آرہی ہے۔‘ ریاست کے وزیر صحت انیس احمد نے کہا ہے کہ ان مریضوں کے خون کو جانچ کے لیئے لیبارٹری بھیجا گیا ہے اور اسکے نتائج کا پتہ ایک ہفتے میں چلے گا۔ لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ابھی تک انسانوں میں برڈ فلو وائرس کا حتمی پتہ نہیں چلا ہے۔ مہاراشٹر کے نوا پور اور دیگر پولٹری فارمز میں مرغیوں کے مارنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ تاہم اسی دوران ہنگولی کے علاقے میں بھی تقریباً ایک ہزار پرندوں کے مرنے کی خبـر ہے اور انکی جانچ کے لیئے بھی انکے نمونے بھوپال بھیجے گئے ہیں۔ اس بات کے بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ برڈ فلو مزید علاقوں میں پھیل سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں دلی: مرغی بازار برڈ فلو سےمتاثر 20 February, 2006 | انڈیا بھارت: مسافروں کے لیے چکن بند21 February, 2006 | انڈیا لاکھوں مرغیاں ہلاک کردی گئیں19 February, 2006 | انڈیا ہندوستان میں برڈ فلو کی تصدیق18 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||