BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 March, 2006, 11:24 GMT 16:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مرغی کی جگہ دلی کا ’بیف‘

گائے کا گوشت
بھارت سے آنے والے’بیف‘ کی لاگت ساٹھ روپے فی کلوگرام ہے
ان دنوں لاہور کی واہگہ سرحد پر روزانہ تقریبا بیس میٹرک ٹن گائے اور بھینس کا گوشت (بیف) دلی سے لاہور آرہا ہے جو پاکستان میں برڈ فلو سے ڈرے ہوئے لوگوں کی گوشت کی ضرورت کو پورا کررہا ہے۔

دلی کے مذبح خانوں سے بڑی بڑی منفی پچیس درجہ سینٹی گریڈ پر یخ ویگنوں میں گوشت کے پارچے واہگہ سرحد کے’نو مینز لینڈ‘ پر پہنچتے ہیں۔ یہاں کپڑے میں لپٹے ہوئے گوشت کے ان پارچوں کو کسٹم افسران چیک کرتے ہیں اور قرنطینہ کا افسر گوشت کی درستگی صحت کی سند جاری کرتا ہے۔

دلی سے آئے گائے اور بھینس کے گوشت کے ان پارچوں کو پاکستانی درآمد کنندگان کی یخ بستہ ویگنوں میں ڈالا جاتا ہے اور یہ گوشت لاہور، راولپنڈی اور پشاور میں بڑے بڑے قصابوں کی دکانوں کی طرف روانہ ہوجاتا ہے۔

 بھارتی بیف ستر، بہتر روپے فی کلوگرام کے حساب سے قصابوں کو بیچ دیا جاتا ہے جبکہ قصاب اسے عام خریدار کو پرچون میں تقریبا دگنی قیمت پر ایک سو بیس روپے فی کلو گرام بیچ رہے ہیں۔
عمر حمزہ ایسوسی ایٹس

بھارتی گوشت کے ایک بڑے امپورٹر یونس قریشی بتاتے ہیں کہ وہ ایک ہفتہ میں پانچ دن روزانہ تقریبا دس ٹن بیف دلی سے منگواتے ہیں۔ اس وقت دو تاجر کمپنیاں، ریڈ کاؤ اور عمر حمزہ ایسوسی ایٹس روزانہ تقریبا بیس ٹن بھارتی بیف درآمد کررہی ہیں۔

یونس قریشی کا کہنا ہے کہ بھارتی بیف کے ساتھ دلی سے گوشت کے تندرست ہونے کی سند آتی ہے اور جمعیت علمائے ہند کی ایک سند بھی منسلک ہوتی ہے کہ یہ گوشت حلال طریقے سے ذبح کیا گیا ہے۔

یونس قریشی کا کہنا ہے کہ لاہور اور دلی میں بڑا گوشت بنانے والے قصابوں کا تعلق ایک ہی برادری (جمعیت القریش) سے ہے ،جو مسلمان ہیں اس لیے اس بات کا کوئی خطرہ نہیں کہ گوشت حلال نہ ہو۔

گوشت کے حلال ہونے کا سرٹیفیکیٹ

حمزہ ایسوسی ایٹس سے منسلک محمد حلیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے کچھ عرصہ پٹیالہ کے حاجی طفیل سے بھی بیف منگوایا لیکن ان کا گوشت دیہاتی قصابوں کا بنایا ہوتا تھا اور یخ ویگنوں کی بجائے برف لگی ویگنوں میں آتا تھا اس لیے پاکستان میں قصاب اس گوشت کے معیار کو پسند نہیں کرتے تھے۔

محمد حلیم کا کہنا ہے کہ چند ماہ پہلے تک تو وہ ہفتہ میں ایک دو بار ہی گوشت درآمد کرتے تھے لیکن جب سے برڈ فلو کا خطرہ سامنے آیا اور لوگوں نے مرغی کا گوشت کھانا کم کیا تو گائے اور بھینس کےگوشت (بیف) کی کھپت اور بھارت سے تجارت بڑھ گئی۔

لاہور میں قصابوں کا کہنا ہے کہ برڈ فلو کے خدشہ سے پہلے شہر میں روزانہ ایک سو بیس ٹن ’بیف‘ فروخت ہوتا تھا لیکن اس وقت یہ مقدار روزانہ ایک سو ساٹھ ٹن تک پہنچ گئی ہے۔

یونس قریشی بتاتے ہیں کہ وہ بھارت سے جو ’بیف‘ درآمد کرتے ہیں وہ انہیں پاکستانی ساٹھ روپے فی کلوگرام میں پڑتا ہے اور یخ ویگنوں اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کے اخراجات ملا کر اس کی قیمت پینسٹھ سے سڑسٹھ روپے فی کلوگرام ہوجاتی ہے۔

بھارت سے گوشت درآمد کرنے والی ایک تاجر تنظیم عمر حمزہ ایسوسی ایٹس کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی بیف ستر، بہتر روپے فی کلوگرام کے حساب سے قصابوں کو بیچ دیتے ہیں جبکہ قصاب اسے عام خریدار کو پرچون میں تقریبا دگنی قیمت پر ایک سو بیس روپے فی کلو گرام بیچ رہے ہیں۔

سند یافتہ گوشت
بھارتی بیف کے ساتھ دلی سے گوشت کے تندرست ہونے کی سند آتی ہے اور جمعیت علمائے ہند کی ایک سند بھی منسلک ہوتی ہے کہ یہ گوشت حلال طریقے سے ذبح کیا گیا ہے۔
یونس قریشی

یونس قریشی کا کہنا ہے کہ انہوں نے لاہور کی ضلعی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ دس دکانیں بیف درآمد کرنے والوں کو مہیا کردے تو وہ یہ گوشت عام لوگوں کو نوے روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت کرسکتے ہیں لیکن شہری حکومت نے اس کا جواب نہیں دیا۔

تاہم اگر بھارت سے گوشت درآمد نہ کیا جاتا تو لاہور میں اس گوشت کی پرچون قیمت ایک سو بیس روپے فی کلوگرام سے بھی زیادہ ہوجاتی لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ بھارت سے آنے والا گوشت نسبتاً سستا ہے اور اس نے لاہور سے پشاور تک ’بیف‘ کی رسد میں کمی نہیں آنے دی۔

پاکستان حکومت نے چھ ماہ پہلے ملک میں گوشت کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے بھارت سے کسٹم ڈیوٹی کے بغیر گوشت منگوانے کی اجازت دی تھی۔

مرغیدال اب مرغی برابر
’کیا بکرے کو برڈ فلو نہیں ہو سکتا؟‘
اسی بارے میں
بکرے، گائے کا گوشت مہنگا
23 March, 2006 | پاکستان
بھارتی بکروں کو مالٹا بخار
07 September, 2005 | پاکستان
بھارتی بکرے پاکستان میں
06 September, 2005 | پاکستان
افغان قصابوں کی مقبولیت
22 January, 2005 | پاکستان
کراچی میں قصابوں کی ہڑتال
01 November, 2003 | پاکستان
کیا گوشت مردہ جانوروں کا ہے؟
13 September, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد