| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں قصابوں کی ہڑتال
رمضان کے دوران کراچی میں جمعرات سے جاری گوشت فروشوں کی ہڑتال رفتہ رفتہ شہری حکومت، شہریوں اور ہڑتالیوں کی کڑی آزمائش بنتی جا رہی ہے اور تینوں اس مرحلے سے سرخرو گزرنا چاہتے ہیں۔ بازاروں میں گوشت کی دکانیں ویران پڑی ہیں اور مرغی، مچھلی اور سبزیوں کی خریداری زوروں پر ہے۔ رمضان شروع ہونے سے پہلے ہی کراچی کی شہری حکومت نے رمضان کے دوران متوقع گرانی کی لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے بیشتر اشیاء کے نرخ مقرر کر دیے تھے اور دیگر دکانداروں کی طرح گوشت فروشوں سے بھی کہا تھا کہ وہ ان نرخوں کی پابندی کریں۔ تاہم رمضان کا آغاز ہوتے ہی بکرے کا گوشت دو سو روپے فی کلو گرام فروحت کیا جانے لگا جب کہ اس کے مقررہ نرخ ڈیڑھ سو روپے فی کلو گرام مقرر کیے گئے تھے۔ شہری حکومت نے اس کے خلاف کارروائی کی اور گوشت فروشوں کے چالان کرنا شروع کر دیے اور گوشت فروشوں نے شہری حکومت کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گزشتہ جمعرات ہڑتال کر دی اور اب کراچی میں گوشت کی دکانیں گزشتہ تین دن سے بند پڑی ہیں۔
زبیر کا کہنا ہے کہ بلدیہ اور گوشت فروشوں کے لیڈروں کے درمیان یہ لڑائی گوشت کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ایک نہ ایک دن تو شروع ہونی ہی تھی۔ عام حالات میں اس ہڑتال کے اثرات کراچی میں بہت نمایاں دیکھے جا سکتے ہیں تاہم رمضان کی وجہ سے کھانے پینے کے مراکز بڑی حد تک عام دنوں کی مانند پُر رونق نہیں رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہڑتال اب تک زیادہ پُر اثر نہیں ہو سکی ہے۔ شہری حکومت کسی طور پر ہڑتالیوں کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہے اور سٹی حکومت کی ٹیمیں گزشتہ چار روز سے کراچی کے اٹھارہ ٹاؤنز میں مکمل عدالتی اختیارات کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں۔ گراں فروشی کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور لگ بھگ چھ سو دکانداروں پر جرمانے نافذ کیے جا چکے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق کراچی میں گائے اور بکرے کا گوشت ماہانہ چھ ہزار ٹن کے مساوی استعمال کیا جاتا ہے۔ شہر میں دو مذبح خانے ہیں جن میں سے ایک لانڈھی میں ہے جہاں روزانہ تقریباً پانچ ہزار بکرے اور ڈیڑھ ہزار گائیں ذبح کی جاتی ہیں دوسرا مذبح خانہ نیو کراچی میں ہے جہاں روزانہ تقریباً ایک ہزار مویشی ذبح کیے جاتے ہیں۔
تاہم کراچی میں ذبح کیے جانے والے جانوروں کی اصل تعداد اور فروخت ہونے والے گوشت کی مقدار کیا اس کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ کم و بیش ہر علاقے میں ایسے گوشت فروشوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے جو مویشی خود ذبح کرتے ہیں۔ خاص طور پر اورنگی ٹاؤن، لیاقت آباد، سہراب گوٹھ، ملیر، لیاری اور دوسرے ایسے علاقوں میں جہاں گوشت فروش یا تو زورور ہیں یا جن کا بلدیہ کے انسپیکٹروں سے تعلقات ’اچھے‘ ہیں روزانہ ہزاروں مویشی ذبح کرتے ہیں اور ان کی دکانیں اسی بناء پر اچھا گوشت فروخت کرنے شہرت اور امتیاز رکھتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ہڑتال کے بعد تاحال ان علاقوں میں بھی گوشت کا سلسلہ بند ہے۔ کراچی میں گوشت فروشی کی لائسنس یافتہ دکانوں کی تعداد چودہ سو ہے لیکن گوشت فروخت کرنے والی دکانوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ سوا کروڑ کے لگ بھگ آبادی رکھنے والے اس شہر میں گوشت کے اکیس بڑے بازار ہیں جن میں سے بعض قیام پاکستان سے بھی پہلے قائم ہوئے تھے۔ان میں سولجر بازار، کھارادر اور ایمپریس مارکیٹ کے علاقوں کو قدیم ترین ہونے کا امتیاز حاصل ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||