BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 September, 2003, 14:55 GMT 18:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا گوشت مردہ جانوروں کا ہے؟

غیر صحت مند گوشت کا خطرہ
کراچی میں غیر صحت مند گوشت کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے

سندھ کے محتسبِ اعلیٰ حاذق الخیری کی سربراہی میں قائم ہونے والی ایک کمیٹی کی رپورٹ نے کراچی کے شہریوں کو ہلا ڈالا ہے جس میں خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ شہر کے نچلے درجے کے ہوٹلوں اور سڑک کے کنارے کھانا فروخت کرنے والوں کو فراہم کیا جانے والا گوشت، مردہ جانوروں کا ہو سکتا ہے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ ذبح کرنے کے لیے سرحد، پنجاب اور سندھ سے کراچی لائے جانے والے جانوروں میں سے دس فیصد مویشی مختلف وجوہ کی بنا پر راستے میں ہی مر جاتے ہیں۔ ہلاک ہونے والے یہ جانور بیس ہزار کلوگرام گوشت فراہم کر سکتے ہیں جس کی مالیت تقریباً پندرہ لاکھ روپے ہوتی ہے۔

کراچی کی شہری حکومت کا دعویٰ ہے کہ مردہ جانوروں کا گوشت صرف مرغیوں کی غذا بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم مذکورہ کمیٹی کا خیال ہے کہ گوشت کی اس قدر مقدار مرغیوں کی غذا میں استعمال نہیں ہو سکتی۔

محتسبِ اعلیٰ سندھ کی سربراہی میں قائم ہونے والی کمیٹی کو اس سال کے اوائل میں مذبح خانوں، گوشت کے بڑے بازاروں اور عام دکانوں کا دورہ کرنے اور حالات کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز دینے کا فریضہ سونپا گیا تھا۔

کراچی میں گوشت کی تقسیم کا طریقہ کار اور شہر میں قائم مذبح خانوں کے حالات برسوں سے تنقید کا نشانہ بنتے آئے ہیں۔ ایک کروڑ چالیس لاکھ آبادی کے اس شہر کے لیے شہری حکومت کی نگرانی میں تین مذبح خانے قائم ہیں جو لانڈھی اور نارتھ کراچی کے مضافاتی علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔

شہر کے مرکزی علاقے سے تقریباً بیس کلومیٹر دور واقع ان مذبح خانوں میں ہر روز ہزاروں مویشی، جن میں گائے، بیل، بکرے اور بھیڑیں شامل ہوتی ہیں، ذبح کیے جاتے ہیں۔ ذبح کرنے، کھال اتارنے اور سرسری سی صفائی کرنے کے بعد ان جانوروں کا گوشت بڑے بڑے اور کھلے ٹرکوں میں لاد کر شہر کے مختلف گوشت بازاروں تک پہنچایا جاتا ہے۔

یہ ٹرک، جن میں جانوروں کا گوشت لوہے کے نوکیلے کنڈوں میں جھولتا نظر آتا ہے، دھوئیں اور گردے سے اٹی شاہراہوں پر ہر طرح کی ٹریفک کے درمیان سے گزرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سوکھ کر جم جانے والے خون اور مویشیوں کی آلودگی سے ان ٹرکوں میں ایک مستقل بو بس جاتی ہے اور کمیٹی کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹرک شاذونادر ہی دھوئے جاتے ہیں۔

اسی طرح شہر کے مضافات میں قائم مذبح خانوں کے حالات پر بھی رپورٹ میں سخت تنقید کی گئی ہے۔ یہاں گوشت کو سیمنٹ یا ٹین کی عارضی چھتوں کے نیچے بےحد غیر صحت بخش طریقوں سے ذبح اور محفوظ کیا جاتا ہے۔ ہر طرف غلاظت، مکھیاں، اور حشرات العرض نظر آتے ہیں۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہاں بیمار مویشیوں کو چیک کرنے کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہے اور کئی مرتبہ بیمار جانور بھی ذبح ہو جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مذبح خانوں میں فرضی ملازمین بھی بھرتی ہیں جن سے شہری حکومت کو بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے۔ مذبح خانوں میں جانوروں کے ڈاکٹروں کی کمی بھی نئے مسائل کا سبب بن رہی ہے۔

کمیٹی نے گوشت فروخت کرنے والوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دکانوں پر جالیاں لگانے کا اب کوئی تصور نہیں رہا ہے جس کی وجہ سے ہر دکان پر مکھیوں کی بھر مار نظر آتی ہے۔

شہر میں صرف ڈیڑھ ہزار لائسنس یافتہ گوشت فروخت ہیں جبکہ لائسنس کے بغیر گوشت فروخت کرنے والوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق ان سے زیادہ ہو چکی ہے۔

محتسبِ اعلیٰ سندھ کی سربراہی میں قائم ہونے والی کمیٹی نے شہری حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان حلات کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد