مرغی، قومی پرندہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’بی مینڈکی کو زکام‘ ہوتے تو سنا تھا جس کے بارے میں کبھی پتہ نہیں چل سکا کہ اس سے انسانی صحت پر مضر اثرات ہوتے ہیں یا نہیں مگر جب سے مرغیوں کو زکام ہونا شروع ہوا ہے تب سے مرغی خوروں میں تشویش کی لہر ضرور دوڑ گئی ہے۔ مرغی تو پنجاب کے باسیوں، خصوصاً زندہ دلان لاہور کا قومی پرندہ تھا مگر اب وہ بھی اس سے احتراز برتنے لگے ہیں۔ شہر کی مختلف طعام گاہوں (جن میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے ریسٹورنٹ بھی شامل ہیں) میں جہاں مرغی اور گائے بکرے کے گوشت سے تیار شدہ کھانے اب ان کے ہاں گائے یا بچھیا اور بکرے کے گوشت سے تیار کھانے تو سر شام ہی ختم ہو جاتے ہیں لیکن مرغی کے گوشت سے تیار شدہ کھانے رات گئے تک دستیاب ہوتے ہیں۔ مرغی کے گوشت سے برگر اور دیگر ’فاسٹ فوڈ‘ تیار کرنے والے اداروں مثلاً کینٹکی فرائیڈ چکن (کے ایف سی) یا میکڈونلڈز کی فروخت بھی بارہ سے پندرہ فی صد تک متاثر ہوئی ہے۔ ان اداروں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں استعمال ہونے والا مرغی کا سارا گوشت حفظان صحت کے بارے میں ان اداروں کے اپنے سخت قوانین اور کڑے معیار کے تحت انتہائی سخت جانچ پڑتال کے بعد آتا ہے اس لیے بیمار مرغی یا اس کے مضرِ صحت گوشت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میکڈونلڈز کے حکام کا کہنا ہے کہ مرغیوں میں زکام کا وائرس ساٹھ ڈگری تک زندہ رہ سکتا ہے اس لئے میکڈونلڈز میں استعمال ہونے والے مرغی کے گوشت کو ستر ڈگری درجۂ حرارت پر پکایا جاتا ہے۔ مگر اس طرح کی تمامتر تاویلات کے باوجود بھی عوام میں مرغی کی مقبولیت کم ہورہی ہے۔ اس کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہو کہ لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان میں حفظان صحت کے کوئی مؤثر اصول لاگو ہوتے ہیں نہ ان پر ڈھنگ سے عملدرآمد ہوتا ہے۔ دوسری بڑی وجہ پڑوسی ملک چین میں پھوٹ پڑنے والے وبائی مرض ’سارس‘ کی تباہ کاریاں ہیں۔ مرغیوں میں پایا جانے والا زکام یا بیماری ’ایوین انفلوئنزا‘ دراصل ’ایچ۔سیون‘ یا ’ایچ۔نائن‘ وائرس مرغیوں کی سانس کی نالی میں سوزش کا باعث بنتا ہے اور اس کا شکار ہونے والی مرغیاں یا دیگر پرندے سانس نہیں لے پاتے اور رفتہ رفتہ ان کی سانس بند ہو جاتی ہے۔ راولپنڈی کے ایک مرغبان معراج عباسی نے بتایا کہ یہ بیماری (کرونک ریسپائریٹری ڈیزیز) بارہ تیرہ ماہ پہلے دریافت ہوئی اور مرغیوں میں عموماً پائی جانے والی بیماری ’رانی کھیت‘ کی طرح اس سے نمٹنے کی کوشش کی گئی اور کچھ (اینٹی بائیٹکس) ادویہ بھی استعمال کی گئیں جن سے کسی حد تک فرق پڑا مگر اب اچانک سندھ میں مرغیوں کے اس وائرس کی تباہ کاریوں کے باعث صورت حال تشویشناک ہو چکی ہے۔ دس روز قبل حکومت نے پرندوں کی بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندی بھی عائد کر دی ہے۔ ان وجوہات کے باعث ایک ماہ کے اندر اندر مرغی کی قیمت بائیس سو روپے من سے گر کر تیرہ سو روپے من تک پہنچ چکی ہے اور یہی حالات پشاور میں بھی ہیں جہاں مرغی پچیس تیس روپے کلو بک رہی ہے۔ وہ محفلیں جن میں مرغی سے تیار شدہ کھانے نہ ہونے پر مہمان تقریب کے میزبان سے گلہ کرنے میں حق بجانب ہوتے تھے اب اگر ان ہی میں مرغی کے گوشت سے تیار شدہ غذا پرگلہ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ حکومت اور پولٹری کے کاروبار سے وابستہ تنظیمیں مسلسل یہی کہہ رہی ہیں کہ یہ کوئی خطرناک بیماری نہیں مگر پھر بھی لوگ مرغی کے بجائے گائے بکرے کے گوشت کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔ بازار میں گائے کا (بغیر ہڈی کا) گوشت ایک سو دس روپے فی کلو کی بجائے ایک سو تیس روپے فی کلو بک رہا ہے جبکہ بکرے کے گوشت کی قیمت دو سو دس روپے سےدو سو تیس روپے فی کلو تک چلی گئی ہے۔ گو کہ دیگر صوبوں میں اس بیماری کے سدباب کے لیے جانوروں میں ٹیکے لگائے جانے کا کام شروع ہوگیا ہے لیکن سندھ کی طرح اگر سرحد اور پنجاب میں بھی لاکھوں کی تعداد میں مرغیاں ہلاک ہوئیں تو گائے اور بکرے کے گوشت کی قیمت بھی دگنی بھی ہو سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||