’غیر ملکی وفود کے لیے مرغی نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر صحت محمد نصیر خان نے ایوان صدر سمیت مختلف سرکاری تقریبات میں مرغی کی کوئی ’ڈش‘ نہ پیش کیے جانے کے بارے میں کہا ہے کہ یہ احتیاط غیر ملکی وفود کے لیے برڈ فلو کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ وزیر صحت نے یہ بات پیپلز پارٹی کے رکن ذوالفقار علی گوندل کی جانب سے پیش کردہ توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں کہی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بیماری انسانوں میں نہیں پھیلی ہے اور دعویٰ کیا کہ پاکستان میں 80 سے زیادہ افراد کے طبی معائنے کے بعد بھی تاحال انسانوں میں برڈ فلو وائرس کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں مرغی فارمز کی نگرانی ہو رہی ہے اور اسلام آباد کے گرد و نواح میں سات مرغی فارمز سے مرغیوں کو تلف کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن مرغی فارمز میں برڈ فلو وائرس پایا گیا ان میں کام کرنے والے مزدوروں کا تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا ہے اور کسی میں تاحال H5N1 وائرس کی علامت ظاہر نہیں ہوئی۔ وزیر نے کہا کہ پاکستان کے بازاروں میں فروخت ہونے والی مرغیاں اور انڈے محفوظ ہیں اور انہیں کھانے سے برڈ فلو وائرس نہیں ہوتا۔ ذوالفقار گوندل نے کہا کہ جب ایوان صدر میں مرغی نہیں کھائی جارہی تو حکومت پھر عام لوگوں کو مرغیاں کھانے کی ترغیب دینے کے بارے میں اشتہارات کیوں شائع کرا رہی ہے؟ اس کے جواب میں وزیر نے کہا کہ پولٹری کی صنعت سے وابسطہ افراد کا بہت نقصان ہورہا ہے اور حکومت کو اس کا احساس ہے۔ ان کے مطابق وہ خود بھی مرغی کھاتے ہیں اور وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم سمیت سب نے مرغی کھائی ہے۔ وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان میں مرغی پکانے کا جو طریقہ ہے وہ بہت اچھا ہے اور اس سے برڈ فلو وائرس کسی کو نہیں لگ سکتا۔ نوٹس پیش کرنے والے رکن نے کہا کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ H5N1 وائرس کی ویکسین بنانے والی کمپنیوں نے افواہ پھیلا رکھی ہے۔ جس پر وزیر نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو قریب سے دیکھ رہی ہے اور ویکسین بھی ملک کے اندر خاصی مقدار میں موجود ہے۔ |
اسی بارے میں اسلام آباد میں برڈ فلو، مرغیاں تلف16 April, 2006 | پاکستان بکرے، گائے کا گوشت مہنگا23 March, 2006 | پاکستان برڈ فلو کی تصدیق، کروڑوں کا نقصان 21 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||