BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 January, 2008, 18:07 GMT 23:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چاول اور خوردنی تیل بھی مہنگے

چاول اور خوردنی تیل کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں
پاکستان میں آٹے کی قلت اور آسمان سے باتیں کرتی قیمت سے تو عوام نبرد آزما ہیں ہی، پچھلے چند دنوں سے چاول اور کھانے کے تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی مشکلات میں اور اضافہ کر دیا ہے۔

ایمپریس مارکیٹ کراچی میں چاول کے تاجر محمد عاشق عباسی نے بتایا کہ پچھلے ایک ماہ میں چاول کی قیمتیں تیزی سے اوپر گئی ہیں اور اب بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں جس سے گاہک ہی نہیں خود تاجر بھی پریشان ہیں۔

’ایک ہفتے میں آپ سمجھ لیں کہ چاول کے ریٹ میں سات سے دس روپے فی کلو کا فرق پڑا ہے۔ عام سپر باسمتی جو ہم بیچ رہے تھے پچپن روپے میں وہ اب تقریباً باسٹھ پینسٹھ روپے فی کلو میں بیچ رہے ہیں۔‘

 ہم نے پوری زندگی میں چاول کی قیمت میں اتنا اضافہ نہیں دیکھا
چاول کے تاجر محمد عاشق

انہوں نے کہا کہ چاول کی قیمتوں میں اتنا اضافہ پہلی بار ہوا ہے۔ اس سے پہلے ایک آدھ روپے کا فرق پڑتا تھا۔

’ہم نے پوری زندگی میں چاول کی قیمت میں اتنا اضافہ نہیں دیکھا۔ ہر بندا تنگ ہے۔ چاول بیچنے والے اور بڑے بڑے بیوپاری بھی پریشان ہیں کہ یہ معاملہ کیا ہے، بہت اسپیڈ سے اس کے ریٹ اوپر گئے ہیں اور اب بھی ٹھہراؤ نظر نہیں آرہا۔‘

عاشق عباسی کی دوکان پر ہی کھڑے ایک بزرگ گاہک شیراز الدین کا کہنا تھا کہ چاول کی قیمت اس سے زیادہ بڑھی ہے جتنی دوکاندار بتا رہے ہیں۔

آٹا
آٹے کا بحران بدستور جاری ہے

’ہم تو روز لے جاتے ہیں، اس لیے ہم سے پوچھو۔ کلو بھر چاول کے ریٹ دس سے بیس روپے بڑھے ہیں۔ یوں سمجھ لو کہ پچھلے سال جو باسمتی تیس روپے کلو تھا وہ آج باسٹھ پینسٹھ روپے چل رہا ہے۔‘

کراچی کے جوڑیا بازار میں خوردنی اشیاء کے بیوپاری جعفر کوڑیا نے بتایا کہ اس سال پاکستان سمیت چاول برآمد کرنے والے دوسرے ممالک میں بھی چاول کی پیداوار کم ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف ملکی اور غیرملکی منڈیوں میں طلب مسلسل بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے طلب اور رسد کے قانون کے تحت چاول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قیمتیں بڑھنے سے خود برآمدکنندگان کو بھی مشکلات پیش آرہی ہیں کیونکہ انہیں اپنے غیرملکی سودوں کے وعدے پورے کرنے کے لیے مہنگا چاول خریدنا پڑرہا ہے۔

جعفر کوڑیا کے مطابق اکتوبر سے دسمبر تک چاول کی فصل تیار ہوکر مارکیٹ میں آتی ہے لیکن نئی فصل کے آتے ہی قیمتیں بڑھ جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ مہینوں میں چاول مزید مہنگا ہوگا۔

دوکانداروں اور گاہکوں کے مطابق خوردنی تیل کی قیمتیں بھی تیزی سے اوپر جارہی ہیں۔

شیراز الدین کا کہنا تھا ’(خوردنی) تیل کی قیمت تین مہینوں میں اکیس روپے فی کلو بڑھی ہے۔ جب لینے جاؤ، آٹھ دس روپے بڑھادیتے ہیں۔‘

دوکاندار عاشق عباسی نے بھی خوردنی تیل کی قیمت بڑھنے کی نہ صرف تصدیق کی بلکہ خدشہ ظاہر کیا کہ تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی۔

 ہمارے یہاں اسی فیصد خوردنی تیل باہر سے آتا ہے اور انٹرنیشنل مارکیٹ میں پام، سویا بین اور کینولا آئل کی قیمتیں چھ مہینوں میں چار سو ساڑھے چار سو ڈالر فی ٹن سے بڑھ کر ایک ہزار ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے جس سے یہاں پر بھی ریٹ بڑھے ہی
جعفر کوڑیا

’میرے خیال میں چاول اور گندم کے بعد اب تیل اور گھی کا نمبر ہے۔ اس کی قیمتیں اب بھی بڑھ رہی ہیں۔ ہمیں ڈر ہے کہ ان کی قیمت ایک مہینے میں ڈیڑھ سو روپے تک نہ پہنچ جائیں۔‘

جعفر کوڑیا کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں خوردنی تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھی ہیں اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کا اثر پاکستان میں بھی پڑا ہے۔

’ہمارے یہاں اسی فیصد خوردنی تیل باہر سے آتا ہے اور انٹرنیشنل مارکیٹ میں پام، سویا بین اور کینولا آئل کی قیمتیں چھ مہینوں میں چار سو ساڑھے چار سو ڈالر فی ٹن سے بڑھ کر ایک ہزار ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے جس سے یہاں پر بھی ریٹ بڑھے ہیں۔‘

ملک میں آٹے کی قلت اور قیمتوں پر اب تک قابو نہیں پایا جاسکا ہے جس کی واضح مثال یوٹیلٹی اسٹورز اور خصوصی سرکاری اسٹالوں پر لوگوں کا ہجوم ہے جس میں اب تک کوئی قابل ذکر کمی نہیں آئی ہے۔

شیراز الدین کہتے ہیں کہ انہوں نے زندگی میں اتنی مہنگائی کبھی نہیں دیکھی۔

’ہماری عمر پچپن سال ہے۔ اتنی مہنگائی کبھی نہیں ہوئی اور دو تین ماہ سے تو واقعی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ حکومت چاہے تو مہنگائی پر کنٹرول کرسکتی ہے۔‘

اشیائے خوردنی کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے لئے حکومت کیا کررہی ہے یہ جاننے کے لئے نگراں وفاقی حکومت میں شامل وزیر خوراک سے بار ہا رابطے کی کوشش کی گئی لیکن بات نہیں ہوسکی۔

آٹے کے بحران ذمہ دار کون ہے؟
آٹے کے بحران پر سوال بے شمار، جواب ندارد
پاکستان میں آٹے کا بحرانآٹے کا بحران
ملک بھر میں آٹا غائب، عوام پریشان:تصاویر
صارفینحکومت کی نااہلی
’گندم کے پیداواری ہدف کا حصول مشکل‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد