آٹا بحران: آخر کیا چھپانا چاہتے ہیں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں آٹے کے بحران کے بارے میں حکومتی موقف اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے گھر کے لیے آٹا خریدنے اسلام آباد کی ’جی الیون مرکز‘ میں واقع مختلف دکانوں پر گیا جہاں اکثر دکانوں پر آٹا دستیاب نہیں تھا۔ ایک دکان پر پانچ کلو والے چھ تھیلے نظر آئے اور دکاندار نے بتایا کہ یہ چکی کا آٹا ہے۔ ان کے مطابق فلور ملز سے آنے والا آٹا اول تو دستیاب نہیں اور اگر کہیں ہے تو وہ چکی کے آٹے کی نسبت مہنگا ہے۔ انہوں نے چکی والے آٹے کی پانچ پانچ کلو کی دو تھیلیاں دو سو ستر روپے یعنی ستائیس روپے فی کلو گرام کے حساب سے دیں۔ جب دکاندار سے قیمت کم کرنے کو کہا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جناب لے لیں ورنہ کل یہی آٹا تیس روپے میں ملے گا۔ آٹے جیسی بنیادی غذا جو ہر غریب اور امیر کی ضرورت ہے اس کی پاکستان میں شدید قلت ہے۔ اس بارے میں حکمران ہوں یا عوام سب ہی مانتے ہیں کہ آٹے کا بحران مصنوعی ہے۔ بحران کی بنیادی وجہ صارفین کے حقوق کی تنظیموں کے مطابق حکومت کی نا اہلی ہے۔ جبکہ حکومت نے اپنی نا اہلی تو تسلیم نہیں کی لیکن بحران سے نمٹنے کے لیے رینجرز کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ گندم ذخیرہ کرنے اور آٹے کی نقل و حمل کو مانیٹر کریں۔ وزیر خوراک پرنس عیسیٰ جان نے چند روز پہلے بیان دیا تھا کہ اصل میں آٹے کی بحران کی خبروں کے پیش نظر عوام نے آٹا زیادہ خریدنا شروع کیا ہے اس لیے بحران پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اپنے آبائی علاقے سے دو ماہ کا آٹا لائے تھے جو الیکشن کے التویٰ کی وجہ سے کم پڑ گیا ہے اور انہیں اب اسلام آباد سے خریدنا پڑے گا۔
صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان میں آٹا خطے کے دیگر ممالک کی نسبت سستا ہے۔ انہوں نے بھی یہ کہا ہے کہ آٹے کا بحران مصنوعی ہے جو چند روز میں ٹھیک ہوجائے گا۔ مسلم لیگ (ق) کے رہنما پرویز الہیٰ اور نگران حکومت میں شامل بعض وزراء نے ابتدا میں یہ آٹے کے بحران کی ذمہ داری بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہونے والی توڑ پھوڑ اور گاڑیوں کو جلانا قرار دیا تھا۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ آٹے کا بحران تو بینظیر کے قتل سے چند ہفتہ پہلے سے جاری ہے اور صدر جنرل پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو کے قتل سے کئی روز قبل ایک اجلاس کی صدارت کے دوران ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کا حکم جاری کیا تھا۔ لیکن ان کے حکم پر عمل درآمد ایک ماہ بعد شروع ہوا اور رینجرز نے معاملہ ہاتھ میں لیا۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ رینجرز نے ایک ماہ پہلے کیوں کارروائی شروع نہیں کی؟ آٹے کے بحران کے بارے میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر بابر اعوان سمیت حزب مخالف کے کچھ رہنما یہ کہتے رہے ہیں کہ حکومت نے بینظیر بھٹو کے قتل سے توجہ ہٹانے کے لیے جان بوجھ کر اس معاملے کو نظر انداز کیا۔ |
اسی بارے میں ’بحران حکومتی نااہلی کا نتیجہ‘ 15 January, 2008 | پاکستان ’بحران کے خاتمے میں وقت لگےگا‘15 January, 2008 | پاکستان ’حکومت غریب مار کر غربت ختم کر رہی ہے‘15 January, 2008 | پاکستان سندھ:رینجرز موجود مگر آٹا غائب14 January, 2008 | پاکستان پاکستان آٹے کا بحران شدید تر13 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||