’اناج گھر‘ سے اناج کہاں گیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان جیسے زرعی ملک میں گندم یا آٹے کے لیے قطاریں ایسا ہی ہے جیسے تیل کی دولت سے مالا مال کسی عرب ریاست میں پٹرول کے لیے لوگ مارے مارے پھر رہے ہوں۔ آٹے کی تلاش میں لمبی قطاریں اس وقت دیکھنے میں آ رہی ہیں جب کہا جا رہا کہ پاکستان نے اپنی تاریخ میں گندم کی سب سے بڑی پیدوار تیئس اعشاریہ چار ملین ٹن حاصل کی ہے۔ اگرچہ بعض حلقے گندم اور آٹے کی رسد کی موجودہ صورتحال دیکھ کر یہ کہنے لگ گئے ہیں کہ حکومت نے گزشتہ مالی سال میں معاشی ترقی سات فیصد دکھانے کے لیے گندم کی پیداوار اصل سے زیادہ دکھائی، لیکن اگر ایسا ہوا ہے تو کیا یہ فرق اتنا زیادہ تھا کہ طلب و رسد میں ایک بہت بڑی خلیج بن گئی ہے جس سے آٹا نایاب ہوگیا ہے اور نتیجتاً اس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ پاکستان کی اکثریتی آبادی اب بھی دیہاتوں میں رہتی ہے اور ساٹھ سے ستر فیصد لوگ براہ راست یا بلواسطہ طور پر زرعی شعبے سے ہی وابستہ ہیں۔ تاہم سنہ انیس سو ننانوے تک ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان خوارک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے گندم درآمد کرنے پر مجبور تھا کیونکہ اس کی اپنی پیداوار سولہ سے اٹھارہ ملین ٹن کے درمیان رہ رہی تھی۔ سنہ 1999 میں جب دیہی علاقوں میں کپاس کی قیمتوں کی وجہ سے بحران تو تھا لیکن اس وقت کی نواز شریف حکومت نے آزاد معیشت کے نظریے کے تحت سرکاری مداخلت نہ کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ تاہم کسانوں کو کسی حد تک خوش کرنے کے لیے نواز شریف نے کے لیےگندم کی کم از کم قیمت خرید دو سو چالیس روپے فی چالیس کلوگرام سے بڑھا کر دو سو پینسٹھ روپے کرنے کا فیصلہ کیا، جس کا اعلان نواز شریف نے فوج کے ہاتھوں اپنی حکومت کا تختہ الٹے جانے سے چند گھنٹے قبل ملتان کے قریب شجاع آباد میں بطور وزیراعظم اپنے آخری جلسۂ عام کے دوران کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو کسانوں کو کپاس کی قیمتوں پر سراپا احتجاج پایا۔ اس بدامنی پر قابو پانے کے لیے انہوں نےگندم کی کم از کم قیمت خرید تین سو روپے فی چالیس کلوگرام کرنے کا اعلان کر دیا۔ نتیجتاً کاشتکاروں کو ایک ہی سال میں گندم کی قیمت فروخت میں ساٹھ روپے فی چالیس کلوگرام کا فائدہ مل گیا۔ قیمت بڑھنے سے گندم کا پیداواری رقبہ بڑھا، کسانوں نے کھادوں کا بھی خوب استعمال کیا اور نتیجہ پاکستانی تاریخ میں گندم کی سب سے بڑی فصل صورت میں نکلا، جو اکیس ملین ٹن سے زیادہ تھی۔
تاہم کسانوں کو مقررہ قیمت نہ ملی اور آنے والے دو تین برسوں میں گندم کی پیداوار بیس ملین ٹن سے نیچے چلی گئی۔ اس پر گندم کی کم از کم قیمت خرید پہلے ساڑھے تین سو روپے، پھر چار سو روپے اور آخر میں چار سو پچیس روپے فی چالیس کلوگرام کر دی گئی، جس کے نتیجے میں گندم کی پیداوار سال دو ہزار پانچ میں اکیس اعشاریہ چھ ملین ٹن اور سال دو ہزار چھ میں اکیس اعشاریہ دو ملین ٹن ہوگئی۔ سال دو ہزار سات کی گندم کی فصل کی تیاری کے دوران زرعی ماہرین کے مطابق موسمی حالات سازگار رہے جبکہ حکومت کی طرف سے بعض ضروری کھادوں (فاسفیٹ وغیرہ) پر سبسڈی (اعانہ) دینے سے کسانوں نے ان کا بہتر استعمال بھی کیا۔ چنانچہ پچھلے دو سالوں کے پیداواری استحکام، زیر کاشت رقبے میں کمی نہ ہونا اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کی طرف سے بتائے گئے پیداواری اعداد و شمار اور حقیقی پیداوار میں اگر کوئی فرق ہے بھی تو اتنا نہیں جتنا کہ آٹے کے بحران کی وجہ سے سامنے آ رہا ہے۔ پاکستان کی ملکی ضرورت بشمول آٹا، بیج اور جانوروں (لائیو سٹاک) کی خوراک کا اندازہ اکیس ملین ٹن لگایا جاتا ہے، جبکہ سال دو ہزار سات میں گندم کی فصل کی کٹائی کے وقت پاکستان کے سرکاری گوداموں میں سات لاکھ ٹن گندم گزشتہ سال کے ذخائر سے بچی پڑی تھی۔ آٹے کے بحران کے پس منظر میں جس بات پر زیادہ تنقید کی جا رہی ہے وہ گندم برآمد یعنی ایکسپورٹ کرنے کا فیصلہ ہے، کیونکہ پاکستان نے جس قیمت پر گندم برآمد کی اس سے کہیں زیادہ قیمت پر بعد میں درآمد کرنا پڑ گئی۔ پاکستان سے چار لاکھ ٹن گندم برآمد کی گئی جبکہ تین لاکھ ٹن درآمدی گندم پاکستان پہنچ چکی ہے اور سات لاکھ ٹن مزید پہنچنی ہے۔ پاکستان میں کسانوں سے گندم کے دو بڑے خریدار حکومت اور فلور ملوں والے ہیں۔ حکومت محدود پیمانے پر خریداری کرتی ہے، جس کے نتیجے میں فلور مل والوں کو من مانی کا موقع ملتا ہے۔ سال دو ہزار سات میں ایکسپورٹر کی صورت میں ایک تیسرا خریدار بھی مارکیٹ میں تھا، جس کے نتیجے میں کاشتکاروں کو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کم سے کم قیمت ملتی رہی۔ گندم کا تعلق غذائی تحفظ یا فوڈ سکیورٹی سے ہے، لیکن یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ کسان کو اگر اس کی محنت کا مناسب صلہ نہ ملے تو نتیجہ کم پیداوار کی صورت میں نکلتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اصرار پر پاکستان میں ہونے والی معاشی اصلاحات کے نتیجے میں حکومت نے غذائی اجناس کی خرید و فروخت سے بھی خود کو علیحدہ رکھنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کا فیصلہ کیا گیا۔ سال دو ہزار چار سے سٹیٹ بنک آف پاکستان نے بنکوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ نہ صرف فلور ملوں کو بلکہ ہر اس شخص کو بارہ فیصد سالانہ کی شرح پر قرضہ دیں جو گندم کی خریداری اور اسے ذخیرہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو۔ اس اقدام کے نتیجے میں ایسے کاروباری میدان میں آئے ہیں جو بنکوں کے پیسے پر گندم ذخیرہ کر کے اس کی مصنوعی قلت کا سبب بن رہے ہیں۔ سٹیٹ بنک کے اس اقدام کے بعد ہر سال آٹے کی قلت اور نتیجتاً قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، چاہے گندم کی پیداوار ملکی ضرورت سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو، اور اس مرتبہ یہ رحجان ایک بحران کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ جس کی شدت میں گندم اور آٹے کی افغانستان، بھارت اور غالباً ایران کو بڑھی ہوئی سمگلنگ نے اس وقت مزید اضافہ کر دیا جب آسٹریلیا اور کینیڈا میں گندم کی فصل توقع سے کم ہونے کے سبب عالمی مارکیٹ میں گندم طلب سے کم دستیاب تھی۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ سال آٹے کے بحران کے ابتدائی دنوں میں شوکت عزیز کی وفاقی حکومت نے چوہدری پرویز الہیٰ کی پنجاب حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کی روک تھام کرے۔ کہا جاتا ہے کہ اس حوالے سے شوکت عزیز نے چوہدری پرویز الہیٰ کو سخت خط بھی لکھا تھا۔ پنجاب کو پاکستان کا ’اناج گھر‘ کہا جاتا ہے اور جب چھوٹے صوبوں کی طرف سے گیس اور پانی کے استعمال کے حوالے سے پنجاب پر تنقید ہوئی تو اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں چوہدری پرویز الہیٰ نے انہیں اسی بنیاد پر کئی دفعہ گندم کی رسد روکنے کی دھمکی بھی دی۔ شوکت عزیز کی ہدایت کی روشنی میں نہ تو ذخیرہ اندوزوں اور نہ ہی سمگلروں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی البتہ انہیں مسلم لیگ قاف نے الیکشن میں ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ گندم ذخیرہ کر کے اربوں روپے کمانے والے مافیا کے پیروں کے نشان بھی کواپریٹیو سوسائٹیز کے ذریعے لوگوں کو ان کی جمع پونجی سے محروم کر کے اربوں روپے کمانے والے مشرف دور کے سیاسی بادشاہ گروں تک جاتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||