پاکستان آٹے کا بحران شدید تر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں آٹے کا بحران اتنا شدید ہو گیا ہے کہ آٹے اور گندم کی سپلائی لیجانے والے ٹرکوں کی حفاظت پر نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ افسران کے مطابق آٹے کی قلت کے سبب لوگوں میں حکومت کے خلاف غصہ بھر گیا ہے۔زیادہ تر پاکستانی آٹے کی قلت اور اس سے بنی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے سخت ناراض ہیں جبکہ حکومت اس کا ذمہ ادر گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ہمسایہ ممالک کو اس کی سمگلنگ کو ٹھرا رہی ہے۔ قدرتی آفات کی تباہ کاریوں سے نپٹنے والے ادارے نیشنل ڈزاسٹر مینجمینٹ اتھارٹی کے سربراہ فاروق احمد خان کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ سپلائی میں کچھ مال غائب ہوا ہے۔ مسٹر خان کا کہنا ہے کہ کہیں کچھ گڑ بڑ ضرور ہے انہوں نے کہا کہ ہم گوداموں سے لیکر ملوں اور پھر راشن کی دوکانوں تک نگرانی کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ محکمے کو ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے خصوصی اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔ ادھربلوچستان کے مختلف علاقوں میں آٹے کا بحران اس قدر شدت اختیار کر گیا ہے کہ پاک ایران سرحد کے قریب واقع شہر تفتان سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے جبکہ ژوب میں ہزاروں لوگوں نے سڑکیں بلاک کر دی ہیں۔ پنجگور اور تربت میں بھی لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ صوبے کے بیشتر شہروں میں آٹا نجی دکانوں پر تو دستیاب ہے لیکن آٹے کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور ہے کیونکہ بیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت بازار میں پانچ سو اور چھ سو روپے کے درمیان ہے ۔ سرکاری آٹے کے حوالے سے حکومتی دعووں کے برعکس آٹا دستیاب نہیں ہے اور سرکاری آٹے کے لیے قائم کیے گئے مراکز کو تالے لگے ہوئے ہیں۔ پاک ایران سرحد کے قریب واقع شہر تفتان کے نائب ناظم جلیل محمدانی نے بتایا ہے کہ سرحد پر سختی کے بعد اب نہ تو ایران سے آٹا اور دیگر اشیا آ رہی ہیں اور نہ ہی پاکستان کی جانب سے کچھ دستیاب ہے اس لیے لوگوں نے دیگر علاقوں کو نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ ژوب میں اتوار کو مقامی انتظامیہ نے ایک میدان میں سرکاری آٹا فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی جس کے لیے ہزاروں لوگ وہاں موجود تھے لیکن آٹا دستیاب نہیں تھا ۔ ژوب میدان میں موجود لوگوں نے اس بارے میں کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ ان لوگوں کے بقول تین تین دنوں سے لوگ قریبی دیہاتوں سے آئے ہوئے ہیں لیکن انہیں آٹا نہیں مل رہا۔ ژوب سے مقامی صحافی عبدالرحمان حریفان کے مطابق لوگوں نے ژوب ڈیرہ اسماعیل خان روڈ بلاک کرکے زبردست نعرہ بازی کی اور سڑک پر پتھراؤ کیا۔ تربت اور پنجگور میں بھی اتوار کو سیاسی جماعتوں ،غیر سرکاری تنظیموں اور تاجر برادری نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ اسی طرح کوئٹہ اور پشین کے علاوہ دیگر علاقوں میں لوگوں کو سرکاری نرخ پر آٹا دستیاب نہیں ہے۔ کوئٹہ میں نان بائیوں نے روٹی کا وزن کم کردیا ہے اور قیمت بڑھا کر آٹھ روپے کر دی ہے۔ یاد رہے چند ماہ پہلے تک دو سو گرام کی روٹی چار روپے میں دستیاب تھی۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی میں بھی آٹے کا بحران بدستور جاری ہے اور اس میں کمی کے بجائے شدت آتی جارہی ہے اور اب آٹا عام دکانوں پر مہنگے داموں بھی بمشکل ہی دستیاب ہے۔ کراچی میں آٹے کی عدم دستیابی سے لوگ پریشان ہیں جبکہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہیں آٹا فلور ملوں سے مہنگا مل رہا ہے اس لیے وہ مہنگے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلور ملز سے آٹا بیس سے بائیس روپے ملتا ہے اور حکومت ان کو یہی آٹا سترہ روپے کلو فروخت کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے بصورتِ دیگر ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں بہتر ہے کہ وہ آٹا فروخت ہی نہ کریں تاکہ وہ حکومت کے جرمانوں سے بچ سکیں۔ ایک دکاندار محمد یاسین کا کہنا ہے اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت پچیس روپے کلو تک پہنچ چکی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ دکانداروں کو آٹا صحیح نرخ پر ملے۔
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ سرکل کے چئرمین چودھری انصر جاوید نے دکانداروں کے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فلور ملز مالکان دکانداروں کو آٹا سترہ روپے کلو کے حساب سے فراہم کررہے ہیں اب یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ کتنے میں فروخت کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فلور ملوں کو مطلوبہ گندم کی فراہمی نہیں ہورہی ہے۔ ان کے بقول کراچی میں پونے دو لاکھ ٹن گندم کی ماہانہ کھپت ہے جبکہ حکومت ایک لاکھ ٹن گندم ماہانہ دے رہی ہے جس کی وجہ سے گندم کا بحران ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر حکومت گندم کی فراہمی کو یقینی بنا دے تو بحران ختم ہوجائے گا۔ دوسری جانب کراچی چکی آٹا ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل محمد انیس شاہد نے بتایا کہ ان کی تنظیم کے ایک وفد کی حکومتی ارکان سے ملاقات ہوئی ہے اور شہر میں چکی کے آٹے کی ساڑھے تین ہزار دکانیں بند کردی گئی تھیں وہاں اب پیر سے آٹا دستیاب ہوگا۔ حکومت کی جانب سے گندم کی سو کلو بوری کی رعائتی قیمت ساڑھے بارہ سو روپے مقرر ہے جو فلور مل مالکان کو فراہم کی جاتی ہے جبکہ چکی مالکان اوپن مارکیٹ سے گندم مہنگے داموں خرید کر آٹا فروخت کرتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق کراچی میں اس وقت ستر سے زیادہ فلور ملیں قائم ہیں جنہیں حکومت رعائتی قیمت پر گندم فراہم کرتی ہے لیکن ان میں سے پچیس سے تیس ہی گندم کو پیس کر آٹا بناتی ہیں جبکہ باقی فلور ملیں حکومت سے رعائتی قیمت پر گندم خرید کر اسے مہنگے داموں فروخت کردیتی ہیں۔ اس سلسلے میں جب چودھری انصر جاوید سے پوچھا گیا تو انہوں نے اس تاثر کو سراسر غلط قرار دیا اور کہا کہ کراچی میں کتنی ہی فلور ملیں کیوں نہ ہوں جب تک گندم کی مطلوبہ فراہمی تمام فلور ملوں کو نہیں ہوگی اس وقت تک بحران پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ |
اسی بارے میں پاکستانی معیشت، بحرانوں کی زد میں11 January, 2008 | پاکستان بلوچستان: آٹے کا بحران جاری06 January, 2008 | پاکستان بلوچستان میں آٹا ملوں کی ہڑتال01 June, 2004 | پاکستان اسلام آباد سے آٹا غائب ہو گیا10 February, 2004 | پاکستان گندم کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ 17 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||