بیورو رپورٹ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد |  |
 | | | آٹے کے بحران میں غریب متاثر ہوئے ہیں |
پاکستان میں نگران حکومت کا کہنا ہے کہ غریب آبادی کو آٹا، چینی اور دالیں یوٹیلٹی سٹورز سے ارزاں قیمتوں پر مہیا کرنے کے لیئے راشن کارڈ سکیم پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ بات وفاقی نگران کابینہ کے یہاں ہونے والے ایک اجلاس میں وزیر اعظم میاں محمد سومرو نے اپنے خطاب میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سکیم کی شرائط کو حتمی شکل دینے کے بعد نافذ کر دیا جائے گا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس سکیم سے ملک بھر میں غریب طبقے کو براہ راست فائدہ ہوگا۔ پاکستان میں راشن کارڈ کا نظام ستر کی دھائی تک نافذ تھا اور اس سے غریب آبادی کو کافی فائدہ ہوتا تھا۔ لیکن اسے بعد میں منقطع کر دیا گیا تھا۔ اجلاس میں وزیر اعظم نے دوبارہ حکام کو گندم اور آٹے کو منافع کی خاطر ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم بھی دیا۔ اسی قسم کے احکامات کابینہ کے آخری اجلاس میں بھی دیئے گئے تھے تاہم اس کے تحت کسی گرفتاری کی اطلاع آج تک نہیں ہے۔ حکومت نے آٹا ملز کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا جو ان کے مقررہ کوٹے کے مطابق گندم نہیں پیستیں۔ وزیر اعظم نے مختصر مدد میں گندم / آٹے کی کمی کے بحران پر قابو پانے پر وفاقی خوراک کمیٹی، صوبائی حکومتوں اور وزارت خوراک و زراعت کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ ملک میں دو ماہ کی ضروریات کے لیئے گندم موجود ہے جبکہ مزید برآمد بھی کی جا رہی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبوں کی گندم کی تمام ضروریات پوری کر دی گئی ہیں۔ اجلاس میں ایک منظم نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ مستقبل میں غریب آبادی کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عام انتخابات کے بارے میں وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ انتخابی کمیشن مختلف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی جانب سے پچانوے فیصد شکایات پر کارروائی مکمل کر چکا ہے۔ |