BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 January, 2008, 16:46 GMT 21:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آج کل گزارہ قرض پر ہے‘

آٹے کے بحران میں ایک نان کی قیمت دس روپے تک ہو گئی ہے
’مہنگائی تو اتنی ہوگئی ہے کہ انسان انسان کو کھا رہا ہے، کیا کھائیں؟ آٹا، چینی، دال، چاول، یہاں تک کہ دودھ بھی اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ بچوں کو پلانے کے لیے بھی نہیں خرید سکتے ہیں۔‘ یہ تاثرات صوبائی محکمے کے ایک سرکاری ملازم کی خاتونِ خانہ کے ہیں جو روزافزوں بڑھتی ہوئی گرانی سے نالاں ہیں۔

سٹیٹ بینک نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں مالی سال میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مزید اضافے اور افراط زر کی شرح 6.5 فیصد کے مقررہ ہدف سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ اس کا مطلب ہے مہنگائی مزید بڑھے گی اور اس کا اثر عوام کس دل سے جھیلیں گے یہ وہی جانتے ہیں۔

خاتونِ خانہ نے کہا کہ ’ہمیں تو علاج معالجہ کی سہولت بھی نہیں اور ڈاکٹروں کی فیسوں میں الگ اضافہ ہوچکا ہے جبکہ دواؤں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کے علاقے میں گٹر لائینیں بھری ہوئی ہیں اور کئی مرتبہ شکایت کرنے کے باوجود کوئی ٹھیک کرنے والا نہیں ہے۔ ووٹ لینے کے لیے سب آتے ہیں اور جیتنے کے بعد کوئی نہیں ملتا جس سے ہم اپنی شکایت کریں۔

پارٹ ٹائم ملازمت
 پہلے میری تنخواہ پانچ ہزار روپے تھی لیکن میرے گھر کا خرچہ آٹھ ہزار روپے تھا جو مجھے کہیں پارٹ ٹائم ملازمت کر کے پورا کرنا پڑتا تھا، آج میری تنخواہ دس ہزار ہے لیکن اب بھی مجھے پارٹ ٹائم ملازمت کرنا پڑتی ہے

انہوں نے کہا کہ آٹھ دس سال پہلے کچھ تھوڑی بہت بچت کا تصور تھا لیکن اب تو اِدھر اُدھر سے قرض لے کر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ ’ اب بچت کیسی اب تو پورا ملک ہی الٹ پُلٹ ہو رہا ہے، ہر کوئی نفسیاتی سا ہوگیا ہے، پتہ نہیں کیا ہو۔‘

ان کے شوہر نے کہا مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ دس سال تو دور کی بات ابھی پچھلے سال آٹا دس یا گیارہ روپے کلو ملتا تھا جو اب پچیس سے تیس روپے کلو مل رہا ہے، چینی سولہ روپے کلو تھی جو اب انتیس روپے ہوچکی ہے، تیل اڑتالیس روپے کلو سے ایک سو دس روپے کلو تک پہنچ چکا ہے۔ غرض ہر چیز کی قیمت میں بیش بہا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں تنخواہ کوئی پندرہ فیصد تو مہنگائی ایک سو پندرہ فیصد بڑھی ہے۔

ایک وفاقی ادارے کے سرکاری ملازم جو نجی ادارے میں پارٹ ٹائم ملازمت کرکے اپنے گھر کے اخراجات چلاتے ہیں انہوں نے سیاست دانوں اور حکومت کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی حکومت آج تک ایسی نہیں آئی جس نے پاکستان اور اس کی عوام کے لیے کام کیا ہو، ’ہر ایک نے اپنے بینک بیلنس میں اضافہ کیا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’ پہلے میری تنخواہ پانچ ہزار روپے تھی لیکن میرے گھر کا خرچہ آٹھ ہزار روپے تھا جو مجھے کہیں پارٹ ٹائم ملازمت کر کے پورا کرنا پڑتا تھا، آج صورتِ حال اس سے بھی خراب ہے کہ میری تنخواہ دس ہزار ہے لیکن میرے گھر کا خرچ، بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ وغیرہ ملا کر پچیس ہزار ہے جس کے لیے اب بھی مجھے پارٹ ٹائم ملازمت کرنا پڑتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ سیاستدان وعدے تو بہت کرتے ہیں لیکن انتخابات میں جیتنے کے بعد جب وزیر بن جاتے ہیں تو ان کے گارڈ ان کی گاڑی کے پاس تک بھی نہیں جانے دیتے، شکایت کرنا تو دور کی بات ہے۔

ان کی بیگم جو گھریلو خاتون ہیں بتاتی ہیں کہ ان کو مہنگائی کی وجہ سے اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکول سے اٹھا کر سرکاری سکول میں داخل کروانا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے مہینے کی تنخواہ میں اچھی طرح گزارہ ہو جاتا تھا لیکن اب بہت مشکل ہوتی ہے۔

سرکاری ملازمین عام طور پر لعن طعن کا نشانہ بنتے ہیں اور ان پر کرپشن کے الزامات بھی لگائے جاتے ہیں لیکن مہنگائی کی چکی میں وہ بھی اسی طرح پِس رہے ہیں جس طرح ملک کے دیگر محنت کش افراد پس رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد