آٹا بحران،مہنگائی کیخلاف مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کی اپیل پر بلوچستان کے مختلف شہروں میں آٹے کی قلت، مہنگائی، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ کوئٹہ میں اے پی ڈی ایم کے زیرِ انتظام جلوس میں آٹے کی قلت اور مہنگائی کے حوالے سے حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی گئی۔ تیز بارش اور شدید سردی کے دوران پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور تحریک میں شامل دیگر جماعتوں کے کارکن اپنی اپنی جماعت کے پرچم، بینرز اور قطبےاٹھائے ہوئے تھے۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالرؤف لالہ نے کہا کہ اس وقت عام آدمی آٹے کی قلت، مہنگائی، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سیاسی جماعتیں دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہیں۔ ایک طرف وہ جماعتیں ہیں جو آمریت کے حق میں ہیں اور امریت کو دوام بخشنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں جبکہ دوسری جانب اے پی ڈی ایم اور پونم جیسے اتحاد ہیں جو عوام کی حکمرانی کے حق میں ہیں۔ اس جلسے سے نیشنل پارٹی کے لیڈر اسحاق بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے غلام نبی مری، جمہوری وطن پارٹی کے جمعہ خان بڑیچ، اے پی ڈی ایم کے صوبائی کنوینیئر عثمان کاکڑ اور دیگر نے خطاب کیا ہے۔ ان قائدین کا کہنا تھا کہ آمریت ہی موجودہ حالات کی ذمہ دار ہے جس کی وجہ سے اب لوگ فاقوں پر مجبور ہو گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں پاکستانی معیشت، بحرانوں کی زد میں11 January, 2008 | پاکستان بلوچستان: آٹے کا بحران جاری06 January, 2008 | پاکستان بلوچستان میں آٹا ملوں کی ہڑتال01 June, 2004 | پاکستان اسلام آباد سے آٹا غائب ہو گیا10 February, 2004 | پاکستان گندم کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ 17 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||