’38 ممالک میں خوراک کا بحران‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم ’ایف اے او‘ نے خبردار کیا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی مہنگائی ترقی پذیر ملکوں میں لاکھوں انسانوں کے لیے بہت بڑا خطرہ بن رہی ہے۔ ’ایف اے او‘ نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں خوراک کی قیمتوں میں چالیس فیصداضافہ ہوا جو بہت سے ملکوں کی برداشت سے باہر ہوگا۔ ایف اے او کا کہنا ہے کہ ایسی مہنگائی کی پہلے نظیر نہیں ملتی اور اگر کسانوں کو فوری طور پر مدد نہیں ملے گی تو بہت سے ملک غذائی بحران کا سامنا نہ کرسکیں گے۔ ادارے نے کہا کہ اڑتیس ممالک میں لڑائی اور قدرتی آفات کی وجہ سے خوراک کا بحران پیدا ہوا ہے۔ آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے ترقی پذیر ملکوں پر خشک سالی اور سیلابوں نے حملے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ تیل کا بھاؤ اونچا چلاگیا ہے اور ساتھ میں اناج سے بننے والے بناسپتی ایندھن کی مانگ بڑھی ہے جس کی وجہ سے غذائی پیداوار کم ہو رہی ہے۔ ایف اے او نے بتایا ہے کہ جنگوں اور قدرتی آفات کی وجہ سے اڑتیس ملک غذائی بحران سے دو چار ہیں۔ یہ بحران اس وجہ سے اور بھی شدید ہوگیا ہے کہ دنیا میں خوراک کے ذخیرے بہت گھٹ گئے ہیں اور امداد کے لیے بھی کھانے پینے کی اشیا کم ہو گئی ہیں۔ اس سال اناج کی مہنگائی نئے ریکارڈ پر پہنچ گئی ہے جس نے ہر طرح کی غذائی اشیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ | اسی بارے میں پورا ملک آٹا بحران کی لپیٹ 13 December, 2007 | پاکستان افغانستان: خشک سالی کا سامنا26 July, 2006 | آس پاس ’صومالیہ ایک انسانی المیہ‘09 December, 2006 | آس پاس تیل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ19 October, 2007 | آس پاس عراق: انسانی بحران بد سے بدتر30 July, 2007 | آس پاس ’قحط نہیں خوراک کی کمی ہے‘09 August, 2005 | آس پاس بچوں کے لئے مفت خوراک07 September, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||