 | | | تیس فیصد کے قریب عراقی بچے خوراک کی قلت کا شکار ہیں |
معروف خیراتی ادارے آکسفیم اور عراقی غیر سرکاری تنظیموں یعنی این جی اوز کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق عراق کی ایک تہائی آبادی کو فوری طور ہنگامی مدد کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق عراقی حکومت لوگوں تک پانی، نکاسی آب، خوراک اور رہائش جیسی زندگی کی بنیادی ضروریات پہنچانے میں ناکام ہو رہی ہے۔ ’ملک میں جاری تشدد نے انسانی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے، جو سال دو ہزار تین میں ہونیوالی (غیر ملکی) مداخلت کے بعد بد سے بد تر ہوتا جا رہا ہے۔‘رپورٹ کے مطابق چالیس عراقی نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، جن میں سے بیس لاکھ ہمسایہ ممالک میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ جمعرات کو اردن میں عراق کے ہمسایہ ممالک نے ایک کانفرنس کے ذریعے مہاجرین کی مدد کی اپیل کی تھی۔  | بیماری اور خوراک کی قلت  مسلح تصادم عراقیوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن بیماری اور خوراک کی قلت بھی اب بڑے مسائل بن کر سامنے آ رہے ہیں  آکسفیم |
بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار نکولس وچل کے مطابق رپورٹ سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ مسلح تصادم عراقیوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن بیماری اور خوراک کی قلت بھی اب بڑے مسائل بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق کی دو کروڑ پینسٹھ لاکھ آبادی میں سے ستر فیصد پینے کے پانی کی مناسب فراہمی سے محروم ہیں، جبکہ غیر ملکی مداخلت سے پہلے آبادی میں ایسے لوگوں کا تناسب پچاس فیصد تھا۔ آْبادی کے صرف بیس فیصد حصے کو کارآمد نکاسیِ آب کی سہولت حاصل ہے۔ تیس فیصد کے قریب بچے خوراک کی قلت کا شکار ہیں جبکہ پندرہ فیصد عراقی باقاعدگی سے کھانا نہیں کھا سکتے۔ |