عراقی مہاجرین، اردن میں کانفرنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں جاری تشدد کے باعث نقل مکانی میں اضافے اور نتیجتاً ہمسایہ ممالک پر مہاجرین کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے مسئلے کے حل کے لیے اردن میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے۔ عراق میں حالیہ تشدد کے نتیجے میں اب تک تقریباً بیس لاکھ عراقی بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق ہر ماہ پچاس ہزار سے زائد عراقی ملک میں امن عامہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے بچنے کے لیے ملک چھوڑ رہے ہیں، جن کی ایک بڑی تعداد شام اور اردن کا رخ کر رہی ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر یہ دونوں ممالک بین الاقوامی برادری سے امداد چاہتے ہیں تاکہ عراقی مہاجرین کی آمد کی وجہ سے ان پر پڑنے والے دباؤ کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔ اردن اور شام اس بات کے بھی خواہاں ہیں کہ انہیں اس بات کی یقین دہانی کروائی جائے کہ یا تو عراقی بتدریج اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے یا پھر انہیں کہیں اور آباد کردیا جائے گا۔ اقوام متحدہ نے اس قدر وسیع پیمانے پر ہجرت کو ایک انسانی بحران کہتے ہوئے اسے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ دوسری طرف مصر اور لبنان میں بھی اتنی ہی تعداد میں عراقی مہاجرین موجود ہیں۔
اس ماہ کے آغاز میں اقوام متحدہ نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی تھی کہ اس کی سالانہ امداد کو دوگنا یعنی 123 ملین ڈالر کریا جائے تاکہ نقل مکانی کرنے والے عراقیوں کے لیے رہائش، طبی اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا دائرہ وسیع کیاجا سکے۔ اقوام متحدہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ نقل مکانی کرنے والے عراقیوں کی نو آباد کاری کے راستے تلاش کرنے پر بھی غور کریں کیونکہ شام اور اردن نے کہہ چکے ہیں کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں عراقی مہاجرین کی براہ راست مدد سے قاصر ہیں۔ مئی میں اردن نے کہا تھا کہ اس نے عراقی شہریوں کی میزبانی پر ایک سال میں ایک بلین ڈالر کی رقم خرچ کی ہے۔ اردن کی حکومت کی ہدایت پر ملک میں آنے والے عراقی شہریوں کی اصل تعداد کا پتہ لگانے کے لیے ایک سروے بھی کیا گیا ہے۔ اردن میں شفاخانوں میں عراقی بچوں کو مفت حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں تاہم انہیں مکمل اور مفت طبی سہولتیں مہیا نہیں کی جا رہی ہیں۔ حکومت کے تحت چلنے والے سکولوں میں پہلے ہی طالب علموں کی تعداد کہیں بڑھ چکی ہے۔ عراقی بچوں کی ایک قلیل تعداد کو، جن کے پاس رہائشی اجازت نامہ ہے، سکولوں میں داخلہ دیا جا رہا ہے۔
اس وقت تقریباً پندرہ لاکھ عراقیوں نے حالیہ فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑ کر شام میں پناہ لی ہوئی ہے۔ شام میں عراقی مہاجرین کو بڑے پیمانے پر مختلف سروسز مہیاکی جارہی ہیں، تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہاں بھی ہزاروں کی تعداد میں موجود عراقی بچوں کی ایک بہت تھوڑی تعداد سکول جانے کے قابل ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائےمہاجرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ اس سال کے آخر تک بے گھر ہونے والے بیس ہزار عراقی شہریوں کے لیے مستقل رہائش کا بندوبست ہو جائے گا۔ امریکی انتظامیہ نے اگرچہ اس سال کے آغاز میں یہ اعلان کیا تھا کہ ستمبر کے آخر تک سات ہزار عراقیوں کو امریکہ آنے کی اجازت دی جائے گی، مگر اس کے برعکس سخت حفاظتی اقدامات کے پیش نظر گزشتہ نو ماہ کے دوران صرف 133 عراقی شہریوں کو امریکہ میں داخلے کی اجازت ملی ہے۔ |
اسی بارے میں عراق: بم دھماکے میں 33ہلاک06 May, 2007 | آس پاس ’عراقی بچے بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں‘23 May, 2007 | آس پاس عراق: کار بم حملوں میں سات ہلاک06 June, 2007 | آس پاس عراق: دو دن میں چودہ امریکی ہلاک21 June, 2007 | آس پاس عراق: ٹرک بم حملہ، 105 ہلاک 07 July, 2007 | آس پاس عراق:ہلاکتیں 130، مالکی کی مذمت08 July, 2007 | آس پاس ’عراقیوں پر تشدد غلط بات نہیں‘05 May, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||