BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 July, 2007, 10:37 GMT 15:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق کا خونی دریا
گزشتہ دو برسوں کے دوران دریائے دجلہ میں سے پانچ سو لاشیں عراقی دارالحکومت بغداد سے سو کلومیٹر جنوب سُویرہ کے قصبے کے نواح میں نکل چکی ہیں۔ بی بی سی کے دو صحافیوں، مونا محمود اور سبیسچین اشر، نے ایک عراقی رپورٹر کی مدد سے مقامی لوگوں سے پوچھا کہ وہ اتنی لاشوں کے دریا کنارے آ لگنے کی تلخ حقیقت کا سامنا کیسے کر رہے۔

’’ سُویرہ کے رہنے والے دو ماہی گیروں کے لیے دریائے دجلہ کے گدلے پانی میں آج کا دن بھی ایک معمول کا دن ہے۔ اور آج بھی دریا سے ان کے ہاتھ جو آیا وہ بھی کچھ نیا نہیں تھا بلکہ وہی تھا جو گزشتہ کچھ عرصے سے دریا سے نکل رہا ہے۔ یہ تلخ حقیقت ان پر آہستہ آہستہ آشکار ہو رہی ہے۔

’ایک منٹ ٹھہرو‘ ایک انسانی لاش دیکھ کر ان میں سے ایک ماہی گیر نے
اپنے ساتھی سے کہا۔

’ یہ لاش تو بالکل ہی گل سڑ چکی ہے۔ اس کا پیٹ بھی چاک ہے۔‘

دوسرے نے پوچھا ’اس کے جسم پر سر موجود ہے یا وہ بھی نہیں۔‘

نیچے پانی میں غور سے دیکھتے ہوئے پہلے ماہی گیر کا جواب تھا ’نہیں۔ اس کا سر بھی کٹا ہوا ہے۔‘

روز کا معمول
دونوں نے اپنی کشتی کے انجن کی پاور بڑھائی تا کہ وہ سڑی ہوئی لاش کو کھینچ کر کشتی میں ڈال سکیں۔

لاش کو آرام سے دریا کے کنارے پر اتارنے کے بعد ان ماہی گیروں نے ہمیں بتایا کہ وہ دریا میں بڑے بڑے جال دراصل کوڑا اور دریا میں بہہ کر آنے والی شاخیں اور پتے نکالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں لیکن اب ان پودوں اور کچرے کی جگہ لاشیں آ رہی ہیں۔

 ہم شام کے وقت لاش نہیں نکال سکتے کیونکہ اس وقت ہمارا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ہم اسے وہیں دریا میں چھوڑ آتے ہیں اور پھر صبح آ کر نکالتے ہیں

ایک نے کہا ’ یہ تو اب روز کا معمول بن گیا ہے۔ ہر روز دو تین لاشیں یوں ہی جال میں پھنس جاتی ہیں۔ جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا ہم یہ جال دریا میں گلی سڑی ٹہنیاں اور جڑی بُوٹیاں پکڑنے کے لیے پھینکتے ہیں لیکن جب جال پانی سے نکالتے ہیں اس میں لاش نکلتی ہے۔‘

اس کے دوسرے ساتھی نے ہمیں بتایا کہ سورج غروب ہونے کے بعد وہ لاشیں نکالنے کا کام نہیں کر سکتے۔ ’ ہم شام کے وقت لاش نہیں نکال سکتے کیونکہ اس وقت ہمارا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ہم اسے وہیں دریا میں چھوڑ آتے ہیں اور پھر صبح آ کر نکالتے ہیں، اس کے لیے پلاسٹک کے بڑے تھیلے لاتے ہیں اور پھر سُویرا کے ہسپتال سے کوئی اہلکار آ کر اسے لے جاتا ہے۔‘

نہ ختم ہونے والا سلسلہ
قریب ہی تین لاکھ آبادی کے مصروف قصبے کُوت کے ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کرنے والا ایک اہلکار اس پولیس والے سے سوال کر رہا جو ابھی ایک اور لاش لے کر آیا ہے۔

اہلکار نے پوچھا ’ اسے گولی تو نہیں ماری گئی تھی۔ کوئی نشان ہے کیا۔‘

’ہاں۔ ایک نہیں کئی گولیاں۔ اس کی قمیض تو چھلنی ہے۔‘

اہلکار کا اگلا سوال تھا: ’ کیا اس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہیں اور آنکھوں پر پٹی ہے؟‘

’نہیں، اسکے ہاتھ تو کھلے ہیں۔ لیکن اس کے چہرے پر ایک نشان لگا ہوا ہے اور ہمیں اس کی کمر سے ایک گولی بھی ملی ہے۔‘

 اب تک ہم تقریباً ایسی پانچ سو لاشیں وصول کر چکے ہیں۔ ان لوگوں کی عمریں پچیس سے چالیس سال کے درمیان تھیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس دو عورتوں کی لاشیں بھی لائی گئیں جن کی عمریں بیس اور پینتیس سال کے درمیان تھیں

پوسٹ مارٹم کے شعبے کے سربراہ نے ہمیں بتایا کہ ان کے ہاں دریا سے نکالی ہوئی لاشوں کا لایا جانا ایک معمول بن چکا ہے۔ ’اب تک ہم تقریباً ایسی پانچ سو لاشیں وصول کر چکے ہیں۔ ان لوگوں کی عمریں پچیس سے چالیس سال کے درمیان تھیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس دو عورتوں کی لاشیں بھی لائی گئیں جن کی عمریں بیس اور پینتیس سال کے درمیان تھیں۔‘

شعبہ کے سربرا نے مزید بتایا کہ ’ ان میں سے زیادہ تر کوگولیاں ماری گئی تھیں یا تشدد کر کے مارا گیا تھا۔ یہ لاشیں بہت گلی سڑ ی ہوتی ہیں اس لیے بدبو کے مارے آپ زیادہ دیر ان کے قریب نہیں کھڑے ہو سکتے۔‘

یہ لاشیں جہاں سے دریا میں پھپینکی جاتی ہیں انہیں وہاں سے سُویرا تک پہنچنے میں کم از کم تین دن لگتے ہیں۔

سب سے بڑا خوف سچ ثابت ہوا
ہسپتال کے مردہ خانے کے دو اہلکار ہر لاش کے کپڑوں کا بغور جائزہ لیتے ہیں اور تفصیل نوٹ کرتے ہیں۔

’ کیونکہ لاشوں پر کوئی نام تو نہیں لکھا ہوتا اس لیے ہم ان لوگوں کی تمام شناختی علامات کو نوٹ کرتے ہیں۔ ہم انہی علامات پر انحصار کرتے ہیں۔‘

مردہ خانے کے دوسرے اہلکار کا کہنا تھا کہ کبھی کسی لاش پر کوئی ٹیٹو بھی بنا ہوتا ہے جس سے وہ اس کی پہچان کر سکتے ہیں۔

بغداد کے لوگوں کو اب پتہ چل گیا ہے کہ جب بھی ان کے گھر کا کوئی فرد لاپتہ ہو جائے تو وہ یہاں آ کر اس کی شناخت کر سکتے ہیں۔

پوسٹمارٹم کے شعبہ کے سامنے ہی ایک ٹیلیفون رکھا ہوا جہاں سے شناخت کے لیے آئے ہوئے لوگ اپنے گھر والوں کو کال کر کے ان علامات اور کپڑوں کی تصدیق کرتے ہیں اور اپنے لاپتہ عزیزوں کی لاشوں کو پہچانتے ہیں۔

 میرا بھائی لاپتہ ہے۔ وہ بغداد جا رہا تھا لیکن اسے اور اس کے دوسرے ساتھیوں کو یوسفیہ کے مقام پر پکڑ کر قتل کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ جو لوگ تھے، ان میں ایک کی لاش کو ہم نے پہچان لیا ہے

وہاں کھڑے ایک شخص نے کہا ’ میرا بھائی لاپتہ ہے۔ وہ بغداد جا رہا تھا لیکن اسے اور اس کے دوسرے ساتھیوں کو یوسفیہ کے مقام پر پکڑ کر قتل کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ جو لوگ تھے، ان میں ایک کی لاش کو ہم نے پہچان لیا ہے جس کے ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے ہیں اور اس کے سر میں تین گولیاں لگی ہوئی ہیں۔ اسکے علاوہ اس کے جسم پر تشدد کے بھی واضح نشان ہیں۔‘

یہاں آنے والے کچھ لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں۔ خوش قسمت اس لحاظ سے کہ انہیں اپنے پیاروں کی لاشیں تو مل جاتی ہیں۔

مہاویل سے آئے ایک بوڑھے شخص کا کہنا تھا ’ میں اپنے بیٹے اور اس کے تین ساتھیوں کو تلاش کر رہا ہوں۔ ہم کچھ لوگوں سے ملے تو انہوں نے ہمیں مشورہ دیا کہ ہم سُویرا جائیں اور ان کی شناخت کریں۔ جب ہم وہاں پہنچے تو انہوں نے ہمیں کوت جانے کا مشورہ دیا۔‘

اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’ ہم نے جب یہاں پڑی لاشیں دیکھیں تو ان میں میرے بیٹے اور اس کے تینوں دوستوں کی لاشیں ہم نے پہچان لیں۔‘

خصوصی قبرستان
لیکن ہر مرنے والا اتنا خوش قسمت بھی نہیں ہوتا کہ کوئی اس کی لاش کو پہچان لے۔ اس طرح کئی لاشوں کی شناخت نہیں ہو پاتی۔

 مقامی سرکاری اہلکار اور امدادی کارکن اس قسم کی سینکڑوں لاشوں کی پہچان، پوسٹ مارٹم اور کفن دفن کی کوشش پوری دیانتداری سے کرتے ہیں لیکن ان کے پاس پیسے اور وسائل نہیں ہیں

اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہسپتال کے مردہ خانے میں اتنی جگہ نہیں کہ یہاں لاشوں کو کئی دن رکھا جا سکے۔ اور اس پر یہاں کی گرمی جس میں لاش کے مزید سڑنے میں بھی دیر نہیں لگتی۔

اسی لیے مقامی قبرستان میں اب ایسے مُردوں کے لیے ایک حصہ مخصوص کر دیا گیا ہے جو بغداد سے آتے ہوئے دریائے دجلہ سے نکالے جاتے ہیں۔

سُویرا اور کوت کے لوگوں نے کھبی سوچا بھی نہ تھا کہ بغداد سے دریا کے راستے اس قسم کا سامان آیا کرے گا۔

مقامی سرکاری اہلکار اور امدادی کارکن اس قسم کی سینکڑوں لاشوں کی پہچان، پوسٹ مارٹم اور کفن دفن کی کوشش پوری دیانتداری سے کرتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس یہ سب کرنے کے لیے پیسے اور وسائل نہیں ہیں۔

مقامی قبرستان کی دیکھ بھال کرنے والے عبدالحسین کا کہنا تھا کہ جتنا ممکن ہے وہ کر رہے ہیں۔ ’ اس کام میں لگے مزدوروں اور کارکنوں کو اجرت حکومت دیتی ہے۔ ہم اُن کی بھی مدد کرتے ہیں جو یہاں اپنے عزیزوں کی لاشیں لینے آتے ہیں، اگر ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے تو ہم ان کی مدد کرتے ہیں۔‘

’جہاں تک مُردوں کا تعلق ہے، ہم لاشوں کی مٹی ہٹاتے ہیں۔ ہم لاشوں کو غسل دے سکتے تھے لیکن اکثر وہ اتنی مسخ ہو چکی ہوتی ہیں کہ انہیں غسل دینا ناممکن ہوتا ہے۔ اگر ہم انہیں غسل دیں تو ان کے بال اور ناخن جسم سے الگ ہو جائیں۔۔ ایسا کرنا حرام ہے۔‘

فرقہ وارانہ تشدد میں مارے جانے والوں کی لاشیں اکثر دریا میں پھینک دی جاتی ہیں

عبدالحسین نے مزید بتایا ’ پہلے ہم ان لاشوں کے کپڑے اتار کر انہیں کفن میں لپیٹ دیتے تھے لیکن پھر ہمیں حکم دیا گیا کہ کپڑے نہ اتاریں، شاید ان کا کوئی عزیز آ جائے اور انہیں پہچان لے۔‘

عراق کا کرب
آخر کار بے شناخت لاشوں کو دفن کر دیا جاتا۔ اس خیال سے ان پر زیادہ مٹی نہیں ڈالی جاتی کہ اگر ضرورت پڑے تو انہیں کھول کر شناخت کے لیے آنے والوں کو دکھایا جا سکے۔

جب ہم قبرستان میں کھڑے تھے تو وہاں دفن کرنے سے پہلے دونوں لاشوں کے کوائف کا اعلان کیا گیا۔ دونوں لاشیں خواتین کی تھیں۔

عبدالحسین اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے۔ ’لکھو۔ مردہ نمبر 6563۔ چھبیس مئی۔ عورت۔ کڑھائی والی قمیض۔ ۔۔۔‘

اس کے بعد دوسری عورت کی باری تھی۔

’لکھو۔ مردہ نمبر 2656 ۔ عورت۔ یہ تفصیلات اس کے سر کی جانب رکھو اور اس پر مٹی ڈال دو۔‘

آخری رسومات بڑی مخصتر ہوتی ہیں۔ اس موقع پر قبر کھودنے والے مزدور مرنے والے کی نماز جنازہ بھی پڑھتے ہیں۔

عبدالحسین کو اس عمل سے روز گزرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ ہر تدفین کے بعد مجھے مرنے والے کے گھر والوں کا سوچ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔‘

’ میں افسردہ ہوں کیونکہ عراق ہمیشہ کرب سےگزر رہا ہوتا ہے۔ میں عراقیوں کے بارے میں سوچتا ہوں اور خون کے آنسو روتا ہوں۔‘‘

عراقعراق، انسانی بحران
تشویش ناک ہے۔اقوام متحدہ
’تباہی کے دہانے پر‘
عراق تقسیم کی جانب جا رہا ہے: تھِنک ٹینک
عراقی بچے عراقی بچوں کا المیہ
عراق میں بقا کی جنگ لڑتے یتیم بچے
عراقی پناہ گزینعراق سے نقل مکانی
ہر آٹھواں عراقی گھر بار چھوڑنے پر مجبور
 صدر بش کو بلینک چیک نہیں: نینسی پیلوسی عراق جنگ کی فنڈِنگ
امریکی کانگریس میں اختلافات
عراق میں غربت
امریکی حملے کے بعد عوام غریب تر: رپورٹ
’رپورٹ سامنے لائیں‘
عراقی ہتھیار: برطانوی رپورٹ عام کرنے کا مطالبہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد