’عراقی بچے بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ عالمی امداد عراقی بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ بچوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ عراق میں حالات کی بنا پر جن چالیس لاکھ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے ان میں سے نصف بچے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ’ تشدد کی وجہ سے بیواؤں اور یتیموں کی تعداد میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے اور ان میں سے اکثر اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔ یونیسف کے مطابق ایسے بچوں کی فلاح کے لیے لیے آئندہ چھ ماہ میں مزید بیالیس ملین ڈالر درکار ہیں۔ یونیسف یہ فنڈز عراقی بچوں کو خوراک،صاف پانی ، بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین اور ان کی تعلیم پر خرچ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ ان فنڈز سے اردن اور شام کی حکومتوں کی مدد کی جائے گی تاکہ وہ وہاں موجود عراقی بچوں کی بہتر دیکھ بھال کر سکیں۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ’عراقی بچے جو کہ ایک چوتھائی صدی سے محرومی کی زندگی جی رہے ہیں اب ایک تیزی سے بگڑتا انسانی المیہ بنتے جا رہے ہیں‘۔ عراق میں بچوں کے لیے موجودہ امداد کے بارے میں یونیسف کے ہنگامی آپریشنز کے سربراہ ڈینیئل ٹولی کا کہنا ہے کہ جہاں جہاں امداد پہنچ رہی ہے وہاں اس کا بہترین اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یونیسف کے مطابق اس امداد کی تازہ مثال عراق کے چھتیس لاکھ بچوں کی خسرہ، کن پھیڑ اور ربیلا جیسی بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسینیشن ہے۔ تاہم ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس موسمِ گرما میں عراقی بچے ہیضے کا شکار ہو سکتے ہیں اور حال ہی میں نجف میں بارہ سال سے کم عمر بچوں میں ہیضے کے پانچ مریض سامنے آئے ہیں۔ | اسی بارے میں عراقیوں میں ’بڑھتی ہوئی نااُمیدی‘19 March, 2007 | آس پاس عراق:اقوام متحدہ کی تنقید25 April, 2007 | آس پاس ’گھر پر رہتا ہوں جو میری ذاتی جیل ہے‘24 March, 2007 | آس پاس امریکی فائرنگ سے چھ بچے ہلاک08 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||