BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 July, 2007, 07:34 GMT 12:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق:ہلاکتیں 130، مالکی کی مذمت
کرکک دھماکہ
آمرلی دھماکے کے زخمیوں کو کرکک منتقل کیا گیا
عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے سنیچر کو عراق میں ہونے والے ٹرک بم حملے کو دہشتگردی کی بہیمانہ کارروائی قرار دیا ہے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق شمالی عراق کے شہر توز خرماتو کے قریبی گاؤں آمرلی کے ایک بازار میں ہونے والے اس حملے میں کم از کم ایک سو تیس افراد ہلاک اور ڈھائی سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

نوری المالکی کا کہنا تھا کہ اس حملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور اپنے گرد تنگ ہوتے ہوئے قانونی پھندے سے نکلنے کے لیے کتنے بے تاب ہیں۔

آمرلی کا دھماکہ عراق میں ماہِ اپریل کے بعد ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا اور حکام کے مطابق اس سے بیس مکانات اور پچاس دکانیں مکمل طور منہدم ہو گئیں جبکہ بیس مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔ حملے کے بعد تاحال آمرلی میں امدادی کارکن ملبے مںی دبے افراد کو تلاش کر رہے ہیں اور اب بھی بیس افراد لاپتہ ہیں۔

عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹرس کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں اس قسم کے مزید حملے متوقع ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرت ہوئے انہوں نے کہا’ سنّی شدت پسند شہ سرخیوں میں جگہ پانے کے لیے اس قسم کے حملے کرتے رہیں گے‘۔

آمرلی میں دھماکے کے بعد قریب میں طبی مرکز نہ ہونے کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو زخمیوں کو تقریباً پینتالیس کلومیٹر دور توز خرماتو لے جانا پڑا تھا اور کہا جا رہا ہے کہ کچھ زخمیوں نے راستے میں دم توڑا۔

دھماکے کی ایک زخمی سکینہ عبدالرزاق نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ مجھے اپنے بچوں کی چیخیں سنائی دیں اور پھر کوئی آواز نہیں آئی یہپاں تک کہ میری آنکھ ہسپتال میں کھلی۔ مجھے اپنے خاوند اور بچوں کے بارے میں کچھ پتہ نہیں‘۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کرکک دھماکے کا تعلق علاقے میں مستقبل قریب میں متوقع سیاسی تبدیلیوں سے ہو سکتا ہے۔ صوبہ کرکک کی حیثیت کے تعین کے لیے ایک ریفرنڈم اس سال کے آخر میں ہو رہا ہے۔ کرکک اگرچہ عراقی کردستان سے باہر ہے لیکن کئی کردوں کا دعویٰ ہے کہ اسے کردستان کا قومی دارالخلافہ بنایا جانا چاہیے۔

’تباہی کے دہانے پر‘
عراق تقسیم کی جانب جا رہا ہے: تھِنک ٹینک
’رپورٹ سامنے لائیں‘
عراقی ہتھیار: برطانوی رپورٹ عام کرنے کا مطالبہ
امریکی فوجی’تشدد کرنا جائز ہے‘
’امریکی فوجی عراقیوں پر تشدد کے حامی‘
عراقعراق، انسانی بحران
تشویش ناک ہے۔اقوام متحدہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد