عراق:ہلاکتیں 130، مالکی کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے سنیچر کو عراق میں ہونے والے ٹرک بم حملے کو دہشتگردی کی بہیمانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق شمالی عراق کے شہر توز خرماتو کے قریبی گاؤں آمرلی کے ایک بازار میں ہونے والے اس حملے میں کم از کم ایک سو تیس افراد ہلاک اور ڈھائی سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ نوری المالکی کا کہنا تھا کہ اس حملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور اپنے گرد تنگ ہوتے ہوئے قانونی پھندے سے نکلنے کے لیے کتنے بے تاب ہیں۔ آمرلی کا دھماکہ عراق میں ماہِ اپریل کے بعد ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا اور حکام کے مطابق اس سے بیس مکانات اور پچاس دکانیں مکمل طور منہدم ہو گئیں جبکہ بیس مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔ حملے کے بعد تاحال آمرلی میں امدادی کارکن ملبے مںی دبے افراد کو تلاش کر رہے ہیں اور اب بھی بیس افراد لاپتہ ہیں۔ عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹرس کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں اس قسم کے مزید حملے متوقع ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرت ہوئے انہوں نے کہا’ سنّی شدت پسند شہ سرخیوں میں جگہ پانے کے لیے اس قسم کے حملے کرتے رہیں گے‘۔ آمرلی میں دھماکے کے بعد قریب میں طبی مرکز نہ ہونے کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو زخمیوں کو تقریباً پینتالیس کلومیٹر دور توز خرماتو لے جانا پڑا تھا اور کہا جا رہا ہے کہ کچھ زخمیوں نے راستے میں دم توڑا۔ دھماکے کی ایک زخمی سکینہ عبدالرزاق نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ مجھے اپنے بچوں کی چیخیں سنائی دیں اور پھر کوئی آواز نہیں آئی یہپاں تک کہ میری آنکھ ہسپتال میں کھلی۔ مجھے اپنے خاوند اور بچوں کے بارے میں کچھ پتہ نہیں‘۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کرکک دھماکے کا تعلق علاقے میں مستقبل قریب میں متوقع سیاسی تبدیلیوں سے ہو سکتا ہے۔ صوبہ کرکک کی حیثیت کے تعین کے لیے ایک ریفرنڈم اس سال کے آخر میں ہو رہا ہے۔ کرکک اگرچہ عراقی کردستان سے باہر ہے لیکن کئی کردوں کا دعویٰ ہے کہ اسے کردستان کا قومی دارالخلافہ بنایا جانا چاہیے۔ |
اسی بارے میں بغداد کار دھماکہ، سترہ باراتی ہلاک 06 July, 2007 | آس پاس فلوجہ: میرینز پر الزامات کی تحقیقات07 July, 2007 | آس پاس عراق: ہلاکتوں میں کمی کا دعویٰ02 July, 2007 | آس پاس امریکی ہلاکتوں پر تعزیتی دن27 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||