BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 July, 2007, 09:13 GMT 14:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: ہلاکتوں میں کمی کا دعویٰ
فائل فوٹو
شہری ہلاکتوں کے بارے میں حکومتی اعداد و شمار کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے
عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ بغداد میں اس سال فروری میں شروع کی جانے والی فوجی کارروائی کے بعد سے جون میں عراقی شہریوں کی ہلاکتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

اس بارے میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق جون میں ایک ہزار دو سو ستائیس عراقی شہری تشدد کے مختلف واقعات میں ہلاک ہوئے ہیں جو مئی میں ہونے والی ایک ہزار نو اننچاس شہری ہلاکتوں کے مقابلے میں تقریباً چھتیس فیصد کم ہیں۔

تاہم ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کروائی جا سکتی کیونکہ ہلاکتوں کی ایک بڑی تعداد رپورٹ ہی نہیں کی جاتی۔

اطلاعات کے مطابق 2003 میں عراق پر اتحادی فوج کے قبضے کے بعد سے اس سال اپریل سے جون کے دوران کا عرصہ امریکی فوج کے لیے انتہائی سخت رہا ہے جس میں تین سو تیس فوجی ہلاک ہوئے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ دراصل بغداد اور آس پاس کے علاقوں میں فوجیوں کے گشت کی تعداد میں اضافہ ہے۔

دوسری طرف امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اتوار کو گشت پر معمور فوجی دستوں پر ہونے والے مختلف حملوں میں دو امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر جارج بش نے بغداد اور اطراف کے علاقے میں تیس ہزار فوجی دستوں کی تعیناتی کے احکامات جاری کیے ہیں تاکہ ملک میں سکیورٹی کی صورت حال اور فرقہ وارانہ تشدد پر قابو پایا جا سکے۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ نے بتایا کہ امریکی کمانڈرز کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے جون میں عراقی شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں جاری کردہ اعداد وشمار کے بارے میں محتاط ہیں تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ عراق میں فوجی دستوں کی تعداد میں اضافہ کا فیصلہ بہتر رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ عراقی حکومت اس قسم کی معلومات جن ذرائع سے حاصل کرتی ہے اس کے بارے میں یہاں ابہام پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے عراق میں تعینات اقوام متحدہ کے مشن کے فراہم کردہ اعداد وشمار کو جاری نہ کرنے کے اپنے فیصلے پر بھی نظر ثانی سے انکار کردیا ہے جس کا فیصلہ عراقی حکومت نے اس سال کے آغاز میں کیا تھا۔

امریکی فوجی’تشدد کرنا جائز ہے‘
’امریکی فوجی عراقیوں پر تشدد کے حامی‘
’تباہی کے دہانے پر‘
عراق تقسیم کی جانب جا رہا ہے: تھِنک ٹینک
عراقی بچے عراقی بچوں کا المیہ
عراق میں بقا کی جنگ لڑتے یتیم بچے
ہجرت پر مجبور
ہر ماہ پچاس ہزار عراقی ہجرت پر مجبور
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد