BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 June, 2007, 11:35 GMT 16:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: سنی رہنماؤں سمیت 30 ہلاک
منصور ہوٹل کا متاثرہ حصہ
دھماکہ منصور ہوٹل کی لابی میں ہوا ہے
عراق میں خودکش بم دھماکوں کے تین مختلف واقعات میں سنی قبائلی رہنماؤں سمیت تیس افراد ہلاک جبکہ پندرہ زخمی ہو گئے ہیں۔

دارالحکومت بغداد کے مرکزی حصے میں واقع ایک ہوٹل میں ہونے والے خودکش بم دھماکے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ خودکش حملے کا نشانہ منصور ہوٹل میں ایک اجلاس میں شرکت کے لیے جمع ہونے والے سنی قبائلی عمائدین تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق سنی قبائلی رہنما فصال القعود سمیت چھ رہنما ہلاک ہونے والوں میں بتائے جاتے ہیں۔

ایک عراقی صحافی رحیم المالکی جو ’العراقیہ‘ ٹی وی کے لیے کام کرتے تھے وہ بھی اس حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

بم منصور ہوٹل کی لابی میں رکھا گیا تھا۔ اس ہوٹل میں زیادہ تر غیرملکی اور عراقی حکام ٹھہرتے ہیں۔

امریکی فوج نے ہوٹل کے آس پاس کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ ہوٹل میں مغربی صوبے انبار کے سنی قبائلی عمائدین ایک اجلاس میں شرکت کے لیے جمع ہوئے تھے۔

ہلاک ہونے والے فصال القعود انبار سالویشن کونسل کے بانیوں میں سے تھے جس کے امریکی فوجی حکام سے قریبی روابط ہیں۔

(فائل فوٹو)
امریکی فوج نے منصور ہوٹل کے آس پاس کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکہ بہت زوردار تھا اور پوری عمارت کچھ لمحوں کے لیے ہل کے رہ گئی۔

منصور ہوٹل میں کام کرنے والے ایک شخص سیف الربائی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے عراقی ہیں اور زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو اس وقت ہوٹل کے داخلی حصے میں موجود تھے۔

حملے کا نشانہ بننے والا ہوٹل دریائے دجلہ کےکنارے پر واقع ہے جو بغداد کے گرین زون سے قریب ہے جہاں زیادہ تر دارالحکومت آنے والے حکومتی اہلکار ٹھہرتے ہیں جبکہ غیر ملکیوں کی بھی بڑی تعداد ہوٹل میں موجود ہے۔

اس سے قبل جنوبی شہر حیلہ اور شمالی شہر بیجی میں ہونے والے دو مختلف خودکش حملوں میں کم از کم اٹھارہ افراد ہوگئے ہیں۔

بغداد کے جنوب میں سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر حیلہ میں گورنر ہاؤس کے باہر پولیس میں بھرتی کے لیے جمع ہونے والے مجمع میں ایک خود کش حملہ ہوا جس میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تیسرا خودکش حملہ شمالی شہر بیجی میں ہوا۔ پولیس کے مطابق اس حملے میں کم از کم دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کا نشانہ پولیس ہیڈ کوارٹر تھا۔ حملہ آور جو دھماکہ خیز مواد کے ساتھ تیل سے بھرا ایک ٹرک میں چلا رہا تھا، اس نے ٹرک کو ہیڈ کوارٹر کی عمارت سے ٹکرا دیا جس سے عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

خود کش حملے
افغانستان میں عراقی حربوں کا استعمال
’تباہی کے دہانے پر‘
عراق تقسیم کی جانب جا رہا ہے: تھِنک ٹینک
پناہ گزین بچہ بڑھتے ہوئے مصائب
عراقی پناہ گزین جائیں تو کہاں جائیں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد