BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 May, 2007, 11:44 GMT 16:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق:القاعدہ سربراہ ابومصری ’ہلاک‘
ابو ایوب المصری
ابو ایوب المصری کی سربراہی میں القاعدہ نے عراق میں بڑی دہشت پھیلائی ہے
عراق کی وزارت داخلہ کے مطابق ملک میں القاعدہ کے سربراہ ابو ایوب المصری ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزارت کے مطابق المصری بغداد کے شمال میں مزاحمت کاروں کی باہمی لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں اور اس میں امریکی اور عراقی سکیورٹی فورسز کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

تاہم القاعد سے تعلق رکھنے والے ’عراق میں اسلامی ریاست‘ نامی گروہ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ابو ایوب المصری ہلاک ہو چکے ہیں۔


عراق کی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ابو ایوب المصری کی ہلاکت کی خبر سو فیصد درست ہے اور وہ بغداد کے شمال میں واقع ایک چھوٹے سے قصبے میں مزاحمت کاروں کی باہمی مسلح جھڑپ میں ہلاک ہوئے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ایک ترجمان عبدل کریم خلف کہتے ہیں ’اِس مجرم کی ہلاکت سے وزارت داخلہ یا کسی دوسری سکیورٹی فورس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ النباعی نامی قصبے میں القاعدہ کے اندرونی اختلافات کی بنا پر ایک مسلح جھڑپ ہوئی، جس میں یہ ہلاکت ہوئی اور جھڑپ کے موقعہ پر وزارت داخلہ کے بااعتماد ذرائع موجود تھے جنہوں نے اس ہلاکت کی تصدیق کی ہے‘۔

ابھی ابو مصری کی لاش نہیں ملی ہے اور نہ ہی امریکی فوج نے اس ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ابو مصری کےسر پر پچاس لاکھ ڈالر کا انعام ہے۔

ابو ایوب المصری عراق میں القاعدہ کے سنی مزاحمت کاروں کے گروہ کی رہنمائی کرتے ہیں جو امریکی اور عراقی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مزاحمت کاری کے خلاف تازہ مہم شروع ہونے کے بعد سے کئی خودکش اور کار بم حملوں میں ملوث ہیں۔

ابو مصری کی لاش نہیں ملی
 ابھی ابو مصری کی لاش نہیں ملی ہے اور نہ ہی امریکی فوج نے اس ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ابو مصری کےسر پر پچاس لاکھ ڈالر کا انعام ہے

کہا جاتا ہے کہ المصری نے افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی اور وہ عراق میں القاعدہ کی تشکیل کرنے والے پہلے آدمی تھے تاہم انہوں نے عراق نے القاعدہ کی قیادت گزشتہ سال جون میں ابومصعب الزرقاوی کی ہلاکت کے بعد سنبھالی تھی۔

زرقاوی امریکی فوج کی ایک کارروائی کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے اور امریکیوں کی جانب سے زرقاوی کی ہلاکت کو عراق میں مزاحمت کاروں کے خلاف جنگ میں ایک بڑی کامیابی قرار دیے جانے کے باوجود سنی مزاحمت کاروں کی کارروائیوں میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔

تجزیہ نگار ابو ایوب المصری کی مبینہ ہلاکت کے بعد بھی عراق میں تشدد میں کمی کے امکان کو مسترد کرتے ہیں۔ اُدھر پولیس کے مطابق آج بسوں پر کیے جانے والے مختلف حملوں میں چودہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
المہاجر کا وڈیو پیغام
07 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد