کربلا بم حملہ، پچپن افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شہر کربلا میں ہونے والے ایک کار بم حملے میں کم از کم پچپن افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچاس بتائی تھی۔ بغض اطلاعات کے مطابق یہ دھماکہ امام حسین کے روضے کے قریب ہوا ہے جب کے بعض کے مطابق امام عباس کے روضے کے پاس ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت آس پاس کی سڑکوں پر لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ جن میں سے بڑی تعداد زائرین کی تھی۔ اس سے قبل عراق میں اہلِ تشیع کے سرکردہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے عراق سے امریکییوں اور افواگج کی واپسی کا نظام الاوقات دینے سے انکار کرنے سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ تنقید انہوں نے ایک بیان میں کی ہے جو عراقی پارلیمنٹ میں ان کی طرف سے پڑھ کر سنایا گیا۔ اس بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ عراقی میں صورتِ حال سے امریکیوں کے جانے کے نتیجے میں اس سے زیادہ بد تر نہیں ہو گی جتنی کہ اس وقت ہے۔ اس سے قبل 14 اپریل کو بھی کربلا میں ایک خودکش کار بم حملہ ہوا تھا جس میں کم سے کم 47 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ یہ دھماکہ کربلا میں ایک بس اڈے پر کیا گیا تھا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔ یہ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ امام حسین کے روضے سے لگ بھگ دو سو میٹر کی دوری پر ہوا تھا۔ | اسی بارے میں کربلا: کار بم حملے میں 47 ہلاک14 April, 2007 | آس پاس کربلا بم دھماکہ، چھ افراد ہلاک09 December, 2006 | آس پاس کربلا: 11 پاکستانی زائرین ہلاک02 September, 2006 | آس پاس کربلا: پاکستانی زائرین ہلاک02 September, 2006 | آس پاس پاکستانی عراق نہ جائیں: حکومت 02 September, 2006 | آس پاس عراق : کار بم دھماکے، ہلاکتیں07 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||