پاکستانی عراق نہ جائیں: حکومت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں گیارہ پاکستانیوں سمیت چودہ جنوبی ایشیائی زائرین کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے اپنے تمام شہریوں کو عراق کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان زائرین کو ایک نامعلوم مسلح افراد ہلاک کر دیا تھا۔ سنیچر کو عراق سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق چودہ زائرین کو ہلاک کیا گیا جن میں پولیس کے مطابق گیارہ زائر پاکستانی اور تین بھارتی تھے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اردن میں پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے کوشش کی جا رہی ہے کہ اب بھی جو پاکستانی عراق میں موجود ہیں انہیں فوری واپسی کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ اس سے پہلے بھی حکومت پاکستان کئی بار متنبہ کرنے کے باوجود ایسے پاکستانی مزدور عراق میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں جو کویتی اور دوسری کمپنیوں کے ملازم ہیں۔ لیکن موجودہ واقع قدرے مختلف ہے کیونکہ اس میں ان زائرین کو نشانہ بنایا گیا ہے جو زیارتوں کے کربلا کے لیئے گئے تھے جسے اہلِ تشیع کے لیئے مقدس ترین مقام خیال کیا جاتا ہے۔ پاکستانی ترجمان نے زائرین کو کربلا لے جانے والی بس پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اردن میں سفیر سے کہا گیا ہے کہ وہ فوراً عراقی حکام سے رابطہ کریں اور دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی صحیح تعداد کی تصدیق کریں۔ اس سلسلے میں جاری کیئے جانے والے بیان میں ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان اس دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتا ہے اور صدر اور وزیراعظم نے بیان کے ذریعے ہلاک ہونے والے زائرین کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی ہے۔ پاکستانی ترجمان کا کہنا ہے کہ عراق میں صورتِ حال دشوار ہے اور حکومت نے پاکستانیوں سے کہا ہے کہ اول تو عراق کا سفر نہ کریں اور جو وہاں ہیں وہ اس وقت تک مکمل احتیاط سے کام لیں جب تک ان کی واپسی کے انتظامات نہیں ہو جاتے۔ | اسی بارے میں کربلا: 11 پاکستانی زائرین ہلاک02 September, 2006 | آس پاس نجف میں دھماکہ دس ہلاک06 April, 2006 | آس پاس کربلا: پاکستانی زائرین ہلاک02 September, 2006 | آس پاس کربلا دھماکہ،سخت حفاظتی انتظامات 19 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||