 | | | دھماکے کے وقت بس اڈے پر کافی ہجوم موجود تھا |
عراق کے مقدس شہر کربلا میں ہونے والے ایک خودکش کار بم حملے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم سے کم 47 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجکر پندرہ منٹ پر ایک حملہ آور نے کربلا میں ایک بس اڈے پر دھماکہ کیا۔ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد پولیس اہلکار فضا میں فائر کررہے تھے تاکہ ہجوم کو منشر کیا جاسکے۔ یہ دھماکہ امام حسین کے روضے سے لگ بھگ دو سو میٹر کی دوری پر ہوا ہے۔ عراقی ٹیلی ویژن پر نشر کیے جانے والے فوٹیج میں امدادی کارکنوں کو جائے وقوع پر دیکھا گیا اور کم سے کم پندرہ ایمبولنس وہاں موجود تھیں۔ وہاں سینکڑوں لوگوں کو موجود دیکھا گیا جو رو رہے تھے اور سینہ کوبی کررہے تھے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ اس لیے اشتعال انگیز ہوسکتا ہے کیونکہ امام حسین کے روضے کے قریب ہوا ہے۔ اس دھماکے کے فوری بعد حکومت مخالف ایک مظاہرہ بھی ہوا جس میں مزید ہلاکتیں ہوئیں۔ مظاہرین نے کربلا کے گورنر کے دفاتر پر پتھر پھینکے اور گورنر اور صوبائی کونسل کے اراکین سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے انہیں عدم سکیورٹی کے لیے ذمہ دار قرار دیا۔ کربلا بغداد کے جنوب میں 80 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ کربلا میں ایک ایسے ہی واقعے میں گزشتہ ماہ ایک سو سے زائد زائرین ہلاک ہوگئے تھے۔ کربلا پوری دنیا کے اہل تشیع کے لیے مقدس حیثیت کا حامل ہے۔ سنیچر کے روز ہی دارالحکومت بغداد کے جنوب میں ایک پل پر کار بم دھماکے میں لگ بھگ آٹھ افراد ہلاک ہوگئے۔ بغداد میں ایسے ہی ایک واقعے میں جمعرات کو کم سے کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور متعدد کاریں دریائے دجلہ میں گر گئی تھیں۔
|