عراق میں بارہ شیعہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے بارہ شیعہ مسلمانوں کو ان کے گھروں میں داخل ہو کر قتل کر دیا ہے۔ مقتولین کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا گیا ہے جو کہ بغداد کے جنوب میں بیس میل کے فاصلے پر واقع سنی آبادی کے قصبے لطیفیہ میں رہائش پذیر ہے۔ عراقی فوج کے کپتان ابراہیم عبداللہ نے بتایا کہ ’مسلح افراد جمعرات کی صبح لطیفیہ کے تین گھروں میں داخل ہوئے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’انہوں نے بیس سے چالیس سال کی عمر کے بارہ مردوں کو پکڑ لیا اور انہیں ایک وین میں لے گئے جہاں انہیں مشین گن سے بھون ڈالا‘۔ اس واقعے کی تفصیلات اور اس میں ملوث لوگوں کے بارے میں مختلف رپورٹیں سامنے آ رہی ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق مقتولین کی تعداد چودہ ہے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق یہ قتل ایک گھر کے اندر ہوئے جن میں حملہ آوروں نے گیارہ مردوں اور عورتوں کے گلے کاٹ دیے۔ رائٹرز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ اس خاندان کو پہلے دھمکیاں بھی دی گئی تھیں اور کہا گیا تھا کہ وہ سنی اکثریت والے علاقے سے ہی نکل جائیں لیکن انہوں نے اس پر عمل نہ کیا۔ حکام کے مطابق جمعرات کو ہی ایک خود کش حملہ آور نے بغداد کی وزارت داخلہ کے قریب ایک ناکے پر حملہ کر کے چار پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور پولیس کی وردی میں ملبوس تھا اور اس نے پولیس کی گاڑی کے قریب پہنچتے ہی بم دھماکہ کر کے خود کو اڑا دیا۔ |
اسی بارے میں سات جولائی: نسلی منافرت میں اضافہ16 December, 2005 | آس پاس ’فسادات کو سختی سے روکیں گے‘13 December, 2005 | آس پاس مصرکے انتخابات میں تشدد01 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||