BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 December, 2005, 18:46 GMT 23:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فسادات کو سختی سے روکیں گے‘
پولیس گرفتار نوجوانوں کے پاس کھڑی ہے
اب تک کئی لوگ گرفتار ہو چکے ہیں
آسٹریلوی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے سربراہ نے حالیہ نسلی فسادات کے ضمن میں سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں سڈنی کی پولیس کو وسیع اختیارات دیے جائیں گے۔

ریاست کی پارلیمنٹ کا اجلاس جمعرات کے روز منعقد ہو گا جس میں نسلی فسادات کے مسئلے سے نمٹنے کے بارے میں غور کیا جائے گا۔

اجلاس کے بارے میں ریاستی سربراہ مورس ایمہ نے بتایا کہ اس میں ’مجرموں اور ٹھگوں سے نبرد آزما ہونے کے بارے میں فیصلے کیے جائیں گے جو ملک کا امن و امان خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔

ان فسادات کے دوسرے روز سات افراد زخمی ہو گئے۔

اتوار کے روز سفید فام نوجوانوں کی جانب سے حملوں کے جواب میں مشرق وسطہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے کرونولہ شہر کے مضافات میں لڑائی جھگڑا کیا۔

برائٹن لی سینڈز نامی ملحقہ مضافاتی علاقے میں ہجوم نے پولیس کی گاڑیوں اور راہگیر موٹر سائیکل سواروں پر پتھراؤ کیا۔ اس موقع پر گیارہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

مورس نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’پولیس کو کسی بھی علاقے کو گھیرے میں لے کر بند کرنے اور تلاشی لینے کے اختیارات دینے کا بھی جائزہ لیا جائے گا‘۔

نیو ساؤتھ ویلز کے حکام کوشش کریں گے کہ پولیس کو کشیدگی والے علاقوں میں بار اور شراب کی دکانیں بند کرنے کے اختیارات دیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں ان جرائم پیشہ لوگوں کو اس بات کی اجازت نہیں دوں گا کہ سڈنی کے ایک پر امن اور اچھے بین الاقوامی شہر ہونے کی شہرت کو نقصان پہنچائیں‘۔

ان پرتشدد واقعات کا آغاز اتوار کو ہوا جب ہزاروں سفید فام لوگوں نے عربی پس منظر رکھنے والے لوگوں پر کرونلہ کے ساحلی علاقے میں حملہ کیا جو بظاہر ان کے دو لوگوں پر حملے کے جواب میں کیا گیا تھا۔

ان میں سے بہت سے لوگ موبائل فون کے پیغامات کے ذریعے ایک جگہ اکٹھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد لڑائی شہر کے دوسرے حصوں تک پھیل گئی جس سے پولیس افسران سمیت تیس سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

تشدد کے یہ واقعات آسٹریلوی وزیر اعظم جان ہاورڈ اور دوسرے رہنماؤں کی جانب سے پرامن رہنے کی اپیلوں کے باوجود پیر کے روز بھی جاری رہے۔

ابھی تک صورت حال میں بہتری کے آثار دکھائی نہیں دیتے اور موبائل فونوں پر تشدد پر اکسانے والے پیغامات پھیلنے کی خبریں مل رہی ہیں جن میں اگلے ہفتے مزید تشدد کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک ایس ایم ایس پیغام کی نقل اس طرح کی ہے: ’ہم انہیں اتوار کو سبق سکھا دیں گے‘۔

آسٹریلیا میں نسلی فسادات اپنی نوعیت کا بالکل نیا مسئلہ ہے اور ماضی قریب میں اس قسم کے واقعات دیکھنے میں نہیں آئے۔ تاہم تین برس قبل ہونے والے بالی بم دھماکوں کے بعد سے ملک میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

66اسلامی کتابیں
آسٹریلیا میں بعض کتابوں کی فروخت پر تشویش
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد