BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 September, 2005, 06:26 GMT 11:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جان بچانے کے لیے شارک سے لڑ گیا
 شارک
سائنسدانوں کاخیال ہے کہ شارک انسانوں پر غلط فہمی میں حملے کرتی ہے۔
آسٹریلیا میں ایک نہتے شخص نے کھلے سمندر میں سولہ فٹ لمبی شاک مچھلی کا مقابلہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق چھبیس سالہ جاش بیرس اپنے دوستوں کے ساتھ جنوبی آسٹریلیا کے کینگرو آئی لینڈ میں سمندر پر ’سرفنگ‘ کر رہا تھا کہ ایک سفید شارک نے حملہ کر دیا۔

جاش بیرس ہاتھوں سے شارک کا اس وقت تک مقابلہ کرتے رہے جب تک ان کے دوست ان کی مدد کو نہیں پہنچے گئے۔

شارک حملے کے بعد جاش بیرش کو زخموں کی مرھم پٹی کے لیے ہسپتال لیے جایا گیا۔

پولیس کے مطابق سفید شارک انتہائی خطرناک ہوتی ہے اور یہ حملہ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔

شارک نے یہ حملہ اس وقت کیا جب جاش بیرس اپنے تختے پر بیٹھ کر سمندری لہر کا انتظار کر رہے تھے کہ شارک نے ان پر نیچے سے وار کیا جس سے وہ سمندر میں گرگئے۔

شارک کئی سو گز تک تختے کو کھینچ کر لیے گئی جو جان بیرس کے پاؤں کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔ جاش بیرس اپنے آپ کو رسی سے آزاد کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن شارک نے دوبارہ حملہ کر دیا۔

دوسرے حملے میں جان بیرس نے شارک کو اپنے ہاتھوں سے دور دھکیل دیا۔ تیسرے حملے سے پہلے جان بیرس کے دوستوں نے اس کو بچا لیا۔

آسٹریلیا کے سمندروں میں پچھلے دو دنوں میں شارک کا یہ دوسرا حملہ ہے ۔

سفید شارک پہلے بھی سرفنگ کرنے والے لوگوں پر حملے کرتی رہی ہیں۔ بعض سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شارک ان لوگوں کو سمندری جانور سیل سمجھ کر حملہ کرتی ہے۔ سیل شارک کی قدرتی غذا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد