BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 November, 2004, 10:56 GMT 15:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈولفن کاجذبۂ دوستی
ڈولفن
ڈولفن مچھلیوں نے کئی مقامات پر انسانوں کی مدد کی ہے
نیوزی لینڈ کے ساحل کے نزدیک ایک ڈولفن مچھلی نے کچھ تیراکوں کی ایک سفید شارک مچھلی کے حملے سے بچنے میں مدد کی۔

یہ لائف گارڈ وان گیری کے ساحل کے نزدیک تربیتی مشقوں میں مصروف تھے کہ ان پر ایک تین میٹر لمبی سفید شارک نے حملہ کر دیا۔

اس موقعہ پر ڈولفن مچھلیاں ان کی مدد کو آئیں اور چالیس منٹ تک ان کی حفاظت کرتی رہیں یہاں تک کہ وہ محفوظ مقام پر پہنچ گئے۔

سمندری حیاتیات پر تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ڈولفن مچھلیوں کا یہ جذبۂ دوستی کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔

لائف گارڈ راب ہوز نےجو کہ اپنے دو ساتھیوں اور اپنی بیٹی کے ہمراہ سمندر میں موجود تھے بتایا کہ سمندر میں شارک کو اتنے نزدیک دیکھنا ایک خوفناک تجربہ تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دیکھتے ہی دیکھتے نصف درجن کے قریب ڈولفن مچھلیوں نے ہمارے گرد گھیرا ڈال لیا اور شارک کے حملے سے بچانے کے لیے ایک حصار قائم کردیا۔

تیراکوں نے بتایا کہ ڈولفن مچھلیوں نے اپنی دم پانی میں بار بار مار کر شارک کو خوفزدہ کرنے کی بھی کوشش کی۔

یہ واقعہ تین ہفتے قبل پیش آیا تھا لیکن تیراکوں نے پہلی بار اب لس کا انکشاف کیا ہے۔

تیراکوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ دن کبھی نہیں بھولیں گے اور یہ دن خاص طور پر اس تیراک کے لیے بہت یادگار ہے جو کہ اس دن رضاکارانہ طور پر پہلی بار اس تربیت میں شریک تھا۔

تیراکوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ڈولفن مچھلیوں کا یہ عمل ارادتاً ان کی جان بچانے کے لیے تھا۔

تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ وہ حیرت زدہ نہیں ہیں۔سمندری حیاتیات کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ ڈولفن جو کہ ذہین ترین ممالیہ میں سے ایک ہیں مشکل میں گرفتار انسانوں کی مدد کرنا پسند کرتی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد