وھیل شارک کی زندگی کے راز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وھیل شارک پر لگائے گئے جدید برقیاتی آلات نے ظاہر کیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی مچھلی کیسے اور کہاں سے کھانا تلاش کرتی ہے۔ بلیز میں تحقیق کرنے والوں کے مطابق انہوں نے وھیل شارک کو ایک کلومیٹر تک پانی میں کھانے کی تلاش میں ڈبکی لگاتے ہوئے نظر میں رکھا۔ وھیل شارک لمبائی میں بیس میٹر تک ہوتی ہے اور اس کے ناپید ہونے کا خدشہ ہے۔ تحقیق کرنے والوں کے مطابق ان کی تحقیق سمندر میں وھیل شارک کے قریب سیاحت کے مناسب مواقع فراہم کرنے میں مدد کرے گی۔ یہ تحقیق بلیز میں واقع دنیا کی دوسری بڑی بیریر ریف (یعنی مونگے) میں کی گئی ہے جس کو اہم عالمی ورثہ کا درجہ حاصل ہے۔ امریکی ادارہ ڈبلیو سی ایس کی محقق، ریچل گراہم کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ وھیل شارک پرانی تحقیق کے برعکس کھانے کی تلاش میں ایک ہزار میٹر تک کی گہرائی میں جاتی ہے۔ وھیل شارک پر لگائے گئے جدید برقیاتی آلات درجۂ حرارت، پانی کے دباؤ اور روشنی کے اندراج کے بعد خود بخود وھیل شارک سے الگ ہو کر پانی کی سطح پر آجاتے ہیں۔ اپنے سائز اور ہجم کہ باوجود وھیل شارک انسانوں کو نہیں کھاتی، جبکہ اس کی ہلکی رفتار کی وجہ سے اس کو جال سے پکڑنا آسان ہے۔ دنیا کے ماحول کے تحفظ کے لیے قائم ادارے، آی یو سی ان، کے مطابق وھیل شارک کے ناپید ہونے کا خدشہ ہے۔ وھیل شارک کے کئی اعضاء کی دنیا میں بہت مانگ ہے جس وجہ سے ان کی تجارت صرف’ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار جانوروں کی اقسام کے بارے میں قوانین ‘ کے تحت ہوسکتی ہے۔ وھیل شارک پوری دنیا میں سمندر اور ساحل کے پاس پائی جاتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||